’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس سے پہلے سول اور فوجی قیادت کی مشاورت

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل کے درمیان علیحدہ سے ملاقات بھی ہوئی
،تصویر کا کیپشنریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل کے درمیان علیحدہ سے ملاقات بھی ہوئی

اسلام آباد میں ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کانفرنس کے ایجنڈے پر بات چیت کی گئی ہے۔

اس اجلاس میں وزیراعظم کے علاوہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ، مشیرِ خارجہ، وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

میڈیا کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ نے اجلاس کے شرکا کو بینکاک میں اپنے بھارتی ہم منصب اجیت ڈوال سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس ملاقات میں دونوں مملک خارجہ سیکریٹری بھی موجود تھے۔

اجلاس میں’ہارٹ آف ایشیا‘ کے ایجنڈے اور افغان صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے بارے میں بات کی گئی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل کے درمیان علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں ملک کی سکیورٹی کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس علاقائی تعاون اور رابطوں کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسرتاج عزیز نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس علاقائی تعاون اور رابطوں کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ہے

اس سے پہلے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں استحکام اور پائیدار امن کا خواہاں ہے کیونکہ افغانستان میں عدم استحکام پاکستان کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق انھوں نے یہ بات منگل کو اسلام آباد میں ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس کے آغاز سے قبل اس میں شریک ممالک کے اعلیٰ حکام کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔

’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس استنبول عمل کا حصہ ہے، جو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے سنہ 2011 میں شروع کیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں پانچواں وزارتی اجلاس منگل اور بدھ کو پاکستانی دارالحکومت میں منعقد ہو رہا ہے جس میں بھارت سمیت دس ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہو رہے ہیں۔

اجلاس کے پہلے دن سینیئر حکام کا اجلاس ہوا ہے جبکہ بدھ کو پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی مشترکہ طور پر کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔

دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سینیئر حکام کے اجلاس میں افتتاحی خطاب کے دوران سرتاج عزیز نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس علاقائی تعاون اور رابطوں کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس سے رکن ممالک کو افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے نتیجہ خیز سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ شسما سوراج بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے منگل کو پاکستان پہنچ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیرِ خارجہ شسما سوراج بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے منگل کو پاکستان پہنچ رہی ہیں

سرتاج عزیز نے خطے کے ممالک پر انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سمیت متعدد شعبوں میں علاقائی تعاون میں اضافے پر زور دیا۔

پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر کے علاوہ افغانستان کے نائب وزیرِ خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے بھی افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا اور کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے جنگ میں متحدہ کوششوں کی ضرورت ہے اور ان کا ملک دہشت گردی کی تمام اقسام اور اشکال کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ شسما سوراج بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے منگل کو پاکستان پہنچ رہی ہیں اور وہ اس دورے کے دوران کانفرنس میں شرکت کے علاوہ مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز اور وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گی۔

خیال رہے کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر افغانستان میں پراکسی وار کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ بھی معطل ہے اور سرتاج عزیز نے منگل کو جہاں یہ کہا کہ سشما سوراج کی اسلام آباد آمد ایک اچھی ابتدا ہے وہیں ان کا یہ موقف بھی تھا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ جامع مذاکرات کس طریقے سے اور کن معاملات پر شروع ہو سکتے ہیں۔