پاکستان کی افغانستان پر کانفرنس میں بھارت کو دعوت

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان نے اس سال دسمبر میں اسلام آباد میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا وزرا کانفرنس میں بھارت کی وزیر برائے خارجہ امور سشما سوراج کو مدعو کیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں مدد دینا ہے اور اس میں 29 ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت متوقع ہے، جن میں پاکستان اور افغانستان کے علاوہ چین، روس، ایران، ترکی، متحدہ عرب امارات، تاجکستان، ازبکستان، کرغیزستان، ترکمانستان، وغیرہ شامل ہیں۔
ہارٹ آف ایشا استنبول عمل کا حصہ ہے، جو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر افغانستان پراکسی وار کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔ پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا پاکستان اور بھارت کو افغانستان میں پراکسی وار کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
اس کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی نے سارک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے ملک کو ’پراکسی وار‘ یعنی در پردہ جنگ کا میدان نہیں بننے دیں گے۔
اس کانفرنس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھارت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں خاصی کشیدگی آئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی سطح پر بات چیت کا سلسلہ معطل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

گذشتہ ایک ماہ کے دوران بھارت میں انتہا پسندوں نے بھارت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات کے خلاف مظاہرے کیے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان اس کی ایک مثال ہیں۔ شیو سینا سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے ان کی بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدے داروں سے ممبئی میں ہونے والی ملاقات رکوا دی تھی۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے سکیورٹی مشیروں کی دہلی میں ہونے والی ملاقات بھی کشمیر کی علیحدگی پسند قیادت پر اختلاف رائے کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی تھی۔
پاکستان کی جانب سے حالیہ مہینوں میں ملک کے اندر بھارت کی خفیہ ایجنسی’را‘ کی مداخلت کے الزامات بھی متعدد بار سامنے آئے ہیں۔
اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں زیادہ کشیدگی اس وقت آئی تھی جب دونوں جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور اس میں عام شہری بھی مارے گئے۔







