’اگر افغان صدر چاہیں تو مذاکرت کی دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان امن وسکون قائم ہو گا تو اس سے پاکستان کو ہی فائدہ ہوگا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشننواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان امن وسکون قائم ہو گا تو اس سے پاکستان کو ہی فائدہ ہوگا
    • مصنف, برجیش اُپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

پاکستان کے نواز شریف اعظم نے کہا ہے کہ اگر صدر اشرف غنی چاہیں تو پاکستان دوبارہ سے کابل اور افغان طالبان کےمابین مذاکرت کی میزبانی کی کوشش کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’لیکن ایک طرف ہم سے ان کو بات چیت کی میز پر لانے کو کہا جائے اور دوسری طرف ان کو مارنے کے لیے کہا جائے یہ ممکن نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے کوشش کی تھی لیکن عین اسی وقت ملا عمر کی موت کی خبر سے سارا معاملہ رک گیا۔

<link type="page"><caption> لشکر طیبہ سمیت کالعدم تنظیموں کےخلاف کارروائی کا عزم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151022_obama_sharif_meeting_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’امریکہ، افغانستان اور پاکستان مل کر مذاکراتی عمل آگے بڑھائیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151022_nawaz_sharif_usa_media_briefing_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک طالبان کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اگر افغانستان امن وسکون قائم ہو گا تو اس سے پاکستان کو ہی فائدہ ہوگا۔

جمعے کو واشنگٹن میں یونائٹیڈ انسٹیوٹ آف پیس میں دانشوروں جنوبی ایشیا کے ماہرین اور صحافیوں کے سامنے اپنی تقریر میں نواز شریف نے کہا کہ افعانستان میں 14 برسوں میں فوجی کارروائی کے باوجود امن چین قائم نہیں ہو پایا ہے۔ اور مذاکرات کے ذریعے ہی یہ حاصل ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کشمیر کا اور ایل او سی کا مسئلہ پھر سے اٹھاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بات چیت میں پہل کی لیکن بھارت کے رویے کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کے جارحانہ کے رویے پر غور کرنا چاہیے نہ کہ ان اقدامات پر جو پاکستان اپنے دفاع میں اٹھاتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کے جارحانہ کے رویے پر غور کرنا چاہیے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننواز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کے جارحانہ کے رویے پر غور کرنا چاہیے

نواز شریف امریکہ سے مطالبہ کیا کہ بھارت پاکستان تعلقات کے مدنظر وہ پاکستان کی رائے پر زیادہ توجہ دیں تبھی وہ ایک مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دو سال پہلے کے مقابلے پاکستان کے حالات میں کافی بہتری آئی ہے۔ دہشت گرد حملے کم ہو گئے ہیں اور معیشت کی ترقی کی رفتار بھی تیز ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کئی بین الاقوامی معاشی ادارے اب پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔اور امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کا رخ کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر شروع ہوتے ہی وہاں موجود ایک شخص ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے لگانے لگا جس سے تھوڑی دیر کے لیے افراتفری مچ گئی لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے اسے قابو کر لیا اور باہر لے گئے۔

وزیر اعظم آح پاکستان کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔