لشکر طیبہ سمیت کالعدم تنظیموں کےخلاف کارروائی کا عزم

وائٹ ہاؤس نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل کہا تھا کہ سکیورٹی سے متعلق مسائل پر بات چیت اس ملاقات میں سرفہرست رہے گی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل کہا تھا کہ سکیورٹی سے متعلق مسائل پر بات چیت اس ملاقات میں سرفہرست رہے گی

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے صدر اوباما کو بتایا ہے کہ پاکستان لشکرِ طیبہ سمیت ان تمام تنظیموں اور افراد کے خلاف موثر کارروائی کا عزم رکھتا ہے جنھیں اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ صدر اوباما نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو یقین دلایا کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کے معاملے میں پاکستان کو کلیدی ساتھی سمجھتا ہے اور پاکستانی شہریوں، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں کا اعتراف کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضربِ عضب اور دیگر آپریشنز کی وجہ سے شدت پسندوں کی دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان امن اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں عزم کا اظہار کیا اور طالبان سے کہا کہ وہ افغان حکومت سے براہِ راست بات چیت کریں اور ایک پائیدار امن معاہدے کے لیے کوشش کریں۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور یہ کہ ایسا کرنا خطے کے تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں جانب حملوں کی روک تھام لازمی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ طالبان بشمول حقانی نیٹ ورک پاکستانی سرزمین سے کام نہ کر سکیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے لائن آف کنٹرول پر تشدد پر تشویش ظاہر کی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کے پائیدار اور پرعزم سلسلے کی اہمیت پر زور دیا۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے سکیورٹی کے معاملات میں دونوں ممالک کا تعلق کلیدی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف امریکی صدر کی دعوت پر چار روز دورے پر واشنگٹن میں ہیں۔