’افغان مصالحتی عمل بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘

نواز شریف طالبان اور افغان حکومت کے مابین مزاکرات کی بحالی کے خواہشمند ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشننواز شریف طالبان اور افغان حکومت کے مابین مزاکرات کی بحالی کے خواہشمند ہیں

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی حکومت افغانستان میں 14 سال سے جاری جنگ کے خاتمے خواہاں ہے اور اس کی خواہش ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات جلد بحال ہوں۔

سنیچر کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان حکام اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کے لیے سہولت کا کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

<link type="page"><caption> افغان مصالحتی عمل موخر ہوا ہے ختم نہیں: خواجہ آصف</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150807_khawaja_asif_mullah_umar_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ملا اختر منصور دھیمے مزاج کے مالک اور مذاکرات کے حامی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150730_mullah_akhtar_mansoor_profile_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے وزیراعظم کے بیان کے حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کے پاکستان پہلے بھی دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر چکا ہے۔ افغان حکام اور طالبان کے درمیان پاکستان میں ہونے والے مذاکرات رواں برس اس وقت ختم ہوگئے تھے جب طالبان لیڈر ملا عمر کی موت کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

لاہور سے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم امن کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں کہ ہماری کوششیں کامیاب ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل ملا عمر کی موت کت خبر جاری نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ملا عمر کی موت کی خبر کس نے جاری کی یہ ایک معمہ ہے۔ یہ خبر مذاکرات سے دو دن قبل جاری کی گئی۔‘

خیال رہے کہ مذاکرات کے خاتمے کے بعد سے طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور حالیہ دنوں میں طالبان قندوز پر قبضہ کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے جو سنہ 2001 کے بعد سے ان کی سب سے بڑی کامیابی بتائی جاتی ہے۔