کیا افغان طالبان بات چیت کے لیے تیار ہیں؟

افغان طالبان اس سے پہلے مذاکرات سے انکار کرتے آئےہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنافغان طالبان اس سے پہلے مذاکرات سے انکار کرتے آئےہیں

تقریباً ایک دہائی سے زیادہ کی نفرت اور بدگمانی کے بعد اب ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ افغان تنازع کے سبھی فریقین بات چیت کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔

بی بی سی کے محمد الیاس خان یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اس بات کے کتنے امکانات ہیں کہ طالبان اور حکومت دونوں مذاکرات کرنے پر رضامند ہیں۔

ماضی میں طالبان نے یہ کہہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا تھا کہ وہ صرف امریکہ سے بات چیت کریں گے کیونکہ ’امریکہ نے ہی افغانستان پر قبضہ کیا ہے اور اصل طاقت وہی ہے۔‘

لیکن گذشتہ کچھ دنوں میں اس طرح کی پیش رفت ہوئی ہیں جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اب برسوں سے جاری اس کشیدگی کے خاتمے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔

19 فروری کو برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے نام ظاہر کیے بغیر ایک پاکستانی فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کی رضامندی کے اشارے دیے ہیں۔

جنوری میں ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ قطر میں طالبان کے دفتر سے ایک وفد نےگذشتہ برس نومبر میں چینی حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔

پاکستانی فوج پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ افغان سرحد کے دونوں طرف شدت پسندوں کو فروغ دیتا ہے اور افغان طالبان اور حکومت کے درمیان بات چیت کی کنجی اس کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستانی فوج ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی آئی ہے۔

نومبر 2013 میں فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد پاکستانی فوج کےسربراہ جنرل راحیل شریف نے خطے کو درپیش سیکورٹی سے متعلق چیلنجیز کا سامنا کرنے کے لیے کابل، واشنگٹن، لندن اور بیجنگ کے ساتھ سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ادھر واشنگٹن کی جانب سے اس سمت مثبت اشارے تب ملے جب اس نے شدت پسندی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان کو دیے جانے والے ایک ارب ڈالر کے فنڈ کی مدت ایک سال اور بڑھا دی۔

کابل سمیت افغانستان میں طالبان کے حملوں میں شدت آئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکابل سمیت افغانستان میں طالبان کے حملوں میں شدت آئی ہے

گذشتہ برس جون میں پاکستانی فوج نے ہر قسم کے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا۔

حکومت کی جانب سے ’ہر قسم‘ کے شدت پسندوں کے خاتمے کے اس عہد کو اس وقت جھٹکا لگا جب شدت پسندوں نے دسمبر میں پشاور کے فوجی سکول پر حملہ کر درجنوں معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دوسری جانب افغانستان میں اشرف غنی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے رشتوں میں ڈرامائی طور پر مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے اور اس سے افغان حکومت اور پاکستان فوج کے رشتوں میں بہتری کا راستہ کھلا ہے۔

اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ جنرل راحیل شریف نے صدر اشرف غنی کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ طالبان کو بات چیت کے لیے رضامند کرنے کے لیے اپنے اثر ورسوخ کا استمعال کریں گے۔

بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان ایسا کر سکتا ہے۔

طالبان کے جنگجو پاکستان پر پناہ لینے، فنڈ جمع کرنے کے لیے مقامی چینلز، اسلحہ اور لوجسٹک کے لیے انحصار کرتے ہیں اور اگر ان کو یہاں پناہ نہ دی جائے تو وہ افغانستان میں اپنی لڑائی جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

پاکستان کا دوست سمجھے جانے والے ملک چین نے سبھی فریقین کے ساتھ بات چیت کرانے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

چین نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور چاہتا ہے کہ یہاں اس کا کاروبار محفوظ رہے اور وہ لمبے عرصے سے کہتا رہا کہ پاکستان اس کے علاقے سینکیانگ کے مسلم شدت پسندوں کو پناہ دینا بند کرے۔

پاکستان کی قیادت کو اس بات کا انداز ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام میں ناکامی خود ان کے ملک کی سکیورٹی پر سمجھوتہ کرنے کے برابر ہے لیکن وہ ایسا کرنے سے پہلے خود بعض باتوں کی یقین دہانی کرانا پسند کرے گا۔

پشاور میں سکول پر حملوں کے بعد پاکستانی فوج کا شدت پسندی کے خلاف موقف زیادہ سخت ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپشاور میں سکول پر حملوں کے بعد پاکستانی فوج کا شدت پسندی کے خلاف موقف زیادہ سخت ہوا ہے

مثال کے طور پر وہ افغانستان سے اس بات کی یقین دہانی چاہے گا کہ افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ میں کمی ہو، حالانکہ تب تک وہ ایسا ضرور چاہے گا جب تک وہ بھارت سے اپنے مسائل حل نہ کر لے اور ایسا کرنے میں چاہے کتنا بھی وقت لگے۔

بھارت افغان پولیس اور فوج کو تربیت فراہم کرتا ہے اور پاکستان کا خیال ہے افغانستان میں بھارت کی خفیہ سروس کے اہلکار رہتے ہیں۔

اس سب کے باوجود پاکستان چاہے گا کہ طالبان کو بات چیت میں دھکیلنے سے پہلے وہ انہیں اپنے معاملات ٹھیک کرنے لیے وقت دے۔ طالبان چاہیں گے ان پیچیدہ اور طویل مذاکرات سے پہلے وہ قانونی اور نظریاتی پہلوؤں کا اچھے سے جائزہ لے اور اپنے سینیئر کمانڈرز کو اعتماد میں لے لیں۔ مذاکرات کے لیے تیار ہونے کی بات سے گریز کرنے کی یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

افغان تنازعے سے منسلک سبھی فریقین ایک باہمی سمجھوتے سے متعلق سوچ رہے ہوں گے لیکن ایک ایسا معاہدہ جس پر سبھی اتفاق کریں اگر ناممکن نہ سہی لیکن ابھی مشکل اور دوراندیش ضرور لگتا ہے۔