طالبان کا نیٹو کو شکست دینے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty
افغانستان میں نیٹو کے جنگی مشن کوسرکاری طور پر ختم کرنے کے اعلان کے ایک دن بعد طالبان جنگجوؤں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان میں کسی بھی قسم کی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہیں ہیں۔
نیٹو نے اتوار کو افغانستان میں 13 سال سے جاری اپنے فوجی مشن کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر 13000 فوجی افغان فوج کو تربیت دینے کے لیے ملک میں موجود رہیں گے۔
دریں اثنا حکام کے مطابق پیر کے روز صوبہ ہلمند میں طالبان کے ایک حملے میں چار افغان فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ ضلع سنگین میں ایک فوجی چوکی پر حملے میں تین فوجی زخمی بھی ہوئے اور جوابی کارروائی میں آٹھ طالبان مارے گئے۔
نیٹو مشن کے کمانڈر جنرل جان کیمبل کا کہنا ہے کہ نیٹو فورسز نے افغان عوام کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر ایک روشن مستقبل کی امید دی ہے۔
لیکن دوسری جانب پیر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ نیٹو کو افغانستان میں صرف شکست اور مایوسی ملی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ باقی قابض افواج کو بھی نکال کر افغانستان میں خالص اسلامی نظام کا نفاذ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ نیٹو افواج کی افغانستان میں تعیناتی 9/11 کے حملوں کے بعد ہوئی تھی۔ جس میں 50 ممالک کے تقریباً 130000 فوجی شامل تھے۔
2001 میں نیٹو کے مشن کے آغاز کے بعد سے اب تک 2200 امریکی فوجیوں سمیت کل 3500 غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







