’افغانستان میں امریکہ کے عسکری کردار میں اضافے کی منظوری‘

افغانستان اور امریکہ کے دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کے تحت سنہ 2014 کے بعد 9800 امریکی فوج افغانستان میں رہیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغانستان اور امریکہ کے دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کے تحت سنہ 2014 کے بعد 9800 امریکی فوج افغانستان میں رہیں گے

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکہ کے جنگی مشن کے دائرۂ کار میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

افغانستان سے نیٹو کی غیر ملکی افواج کا انخلا رواں برس کے اختتام تک مکمل ہونا ہے تاہم امریکہ کے ہزاروں فوجی اس مدت کے خاتمے کے بعد کم از کم دو برس تک افغانستان میں رہیں گے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر نے حال ہی میں ایک خفیہ حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت افغانستان میں موجود امریکی فوجی کم از کم مزید ایک برس کے لیے جنگی کارروائیوں میں براہِ راست شریک ہوں گے۔

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ براک اوباما نے یہ فیصلہ حالیہ چند ہفتوں میں قومی سلامتی پر اپنے مشیروں سے بات چیت کے بعد کیا ہے۔

امریکی صدر نے رواں برس مئی میں اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج آئندہ برس افغانستان میں کسی قسم کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گی اور وہاں رہ جانے والے فوجی افغان افواج کی تربیت اور القاعدہ کی باقیات کی تلاش میں مصروف رہیں گے۔

تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق براک اوباما کے نئے احکامات کے تحت اب امریکی فوجی سنہ 2015 میں بھی طالبان سمیت ان شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیاں کریں گے جو افغان حکومت اور افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

صدر نے خصوصی احکامات میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے والی افغان فوج کو امریکی فضائی مدد فراہم کرنے اور طالبان کے خلاف کارروائیوں میں بسا اوقات امریکی فوجیوں کے افغان فوجیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کی منظوری بھی دی ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی طالبان کے خلاف اس صورت میں کارروائی کریں گے جب وہ یا تو افغانستان میں موجود امریکی و اتحادی افواج کے لیے خطرہ بنیں یا پھر القاعدہ کی براہِ راست مدد کرتے پائے جائیں۔

امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ آیا ان فیصلوں کے بعد افعانستان میں 2014 کے بعد تعینات کیے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوگا یا نہیں۔

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ براک اوباما نے یہ فیصلہ حالیہ چند ہفتوں میں قومی سلامتی پر اپنے مشیروں سے بات چیت کے بعد کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشننیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ براک اوباما نے یہ فیصلہ حالیہ چند ہفتوں میں قومی سلامتی پر اپنے مشیروں سے بات چیت کے بعد کیا ہے

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ فیصلہ اس بحث کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی صدر کے افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے وعدے کے بعد محکمۂ دفاع نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکی فوج کو افغانستان میں اس کے بقیہ مشن مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔

رواں برس ستمبر میں طے پانے والے افغانستان اور امریکہ کے دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کے تحت سنہ 2014 کے بعد 9800 امریکی فوج افغانستان میں رہیں گے۔

یہ فوجی ’انسدادِ دہشت گردی‘ کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے علاوہ افغان فوج کو ضروی تعاون اور تربیت فراہم کریں گے۔

معاہدے کے تحت افغانستان میں آئندہ سال بھی ان 9800 امریکی فوجیوں میں سے نصف واپس جائیں گے اور پھر اس کے بعد سنہ 2016 کے اوائل میں اس میں بھی مزید کمی کی جائے گی۔