افغانستان اور امریکہ میں سلامتی کا معاہدہ
کابل میں صدر اشرف غنی نے اقتدار سنبھالنے کے دوسرے ہی روز امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس پر حامد کرزائی دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
پاکستان نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا اور کہا ہے کہ اس سے خطے میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر کرنے میں مدد ملے گی جبکہ افغان طالبان نے اس معاہدے کی مذمت کی ہے۔
اس معاہدے کے تحت 2014 کے بعد 9800 امریکی فوج افغانستان میں رہیں گے اس کے علاوہ نیٹو ملکوں کے 3000 فوجی بھی امریکی فوج کی معاونت کرتے رہیں گے۔
افغانستان اور امریکہ کا دفاعی معاہدہ

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان کی نئی حکومت نے منگل کو امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی کے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے۔
امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی کے اس معاہدے پر دستخط افغان حکومت کے مشیر برائے قومی سکیورٹی حنیف اتمر نے کیے۔
واضح رہے کہ سابق صدر حامد کرزئی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے سبب امریکہ سے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی اور سکیورٹی کے خدشات میں اضافہ ہو گیا تھا۔
اشرف غنی کے معاون داؤد سلطان زئی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’معاہدے پر دستخط سے یہ پیغام جائے گا کہ صدر اشرف غنی نے اپنا عہد نبھا دیا ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ حلف برداری کے دوسرے دن اس پر دستخط ہوں گے اور یہ ہو رہے ہیں۔‘
اس دستخط کے بعد اس سال کے آخر تک افغانستان سے زیادہ تر نیٹو افواج واپس چلی جائیں گی جبکہ 9800 امریکی فوجی وہیں رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
آئندہ سال امریکی قیادت والے مشن کے تحت افغانستان میں صرف ساڑھے 12 ہزار غیرملکی فوجی رہ جائیں گے جس میں امریکہ کے علاوہ جرمنی اور اٹلی کے فوجی بھی شامل ہوں گے۔
بی ایس اے کی رو سے بعض مخصوص فوجی دستوں کو ملک میں رہنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ ’انسدادِ دہشت گردی‘ کی کارروائیاں کر سکیں اور افغان فوج کو ضروی تعاون اور تربیت فراہم کر سکیں۔
افغانستان میں آئندہ سال امریکی فوجیوں کی نصف تعداد رہ جائے گی اور پھر اس کے بعد سنہ 2016 کے اوائل میں اس میں بھی مزید کمی کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
امریکہ کے ’افغان مشن‘ کے لیے نیٹو نے جتنی تعداد میں افواج بھیجی تھیں وہ اس میں مسلسل کمی اور وہاں کا کنٹرول مقامی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرتی جا رہی ہے۔
رواں سال کے اوائل میں افغانستان میں 49 ممالک کے تقریباً 50 ہزار فوجی تھے جن میں سب سے زیادہ امریکہ کے 34 ہزار فوجی تھے۔

،تصویر کا ذریعہ
اس سے قبل سنہ 2011 میں افغانستان میں سب سے زیادہ غیر ملکی فوجی تھے جن میں صرف امریکہ کے ایک لاکھ دس ہزار فوجی تھے۔
پیر کو افغانستان کے نئے صدر کے طور پر اشرف غنی اور ملک کے پہلے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر عبداللہ عبداللہ نے کابل کے صدارتی محل میں اپنے اپنے عہدوں کا حلف لیا تھا۔
اشرف غنی نے حامد کرزئی کی جگہ لی جنھوں نے 13 برس تک افغانستان کا صدر رہنے کے بعد یہ عہدہ چھوڑا تھا۔
طالبان کا ردعمل

،تصویر کا ذریعہReuters
افغان طالبان نے امریکہ اور افغانستان کے درمیان ہونے والے دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغانستان میں موجود امریکی غلاموں کا اصل چہرہ افغان عوام پر آشکار ہو گیا ہے۔‘
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’انھوں نے افغان عوام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ یہ لوگ امریکی غلام ہیں، انھیں افغانوں کے بھیس میں ہم پر مسلط کیا گیا ہے اور یہ چند ڈالروں کی خاطر افغانستان اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔‘
اس دستخط کے بعد اس سال کے آخر تک افغانستان سے زیادہ تر نیٹو افواج واپس چلی جائیں گی جبکہ 9800 امریکی فوجی وہیں رہیں گی۔
طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل حکومت نے اس معاہدے پر دستخط تو کر دیے ہیں لیکن اس میں افغان عوام کی مرضی شامل نہیں۔
’ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے غلاموں کے خلاف شروع کیا گیا جہاد تب تک جاری رہے گا، جب تک افغانستان کو امریکہ سے مکمل طور پر آزاد نہیں کرا لیا جاتا اور ایک مستحکم اسلامی حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے اور اس کی حمایت کرنے والے، افغانستان کی تاریخ میں غلاموں کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے اور انھیں وہی سزا دی جائے گی جو کہ اس سے پہلے غلاموں کو دی گئی تھی۔‘
پاکستان کا خیرمقدم

پاکستان نے افغانستان کی نئی حکومت اور امریکہ کے درمیان سلامتی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے افغان حکومت کو فوجی اور معاشی وسائل میسر آ جائیں گے۔
وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائےقومی اور خارجہ امور خارجہ سرتاج عزیز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہی موقف رہا ہے کہ یہ مسئلہ افغانستان اور امریکہ کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی رائے یہی ہے کہ اس سے افغان سکیورٹی فورسز کو حفاظتی حصار ملے گا۔
’امریکہ اور نیٹو کے فوجی افغان سکیورٹی فورس کی تربیت اور حفاظت کے لیے وہاں رہیں گے۔
افغان امور کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت ساڑھے تین لاکھ افغان سکیورٹی فورسز کو مدد کی ضرورت ہے اور امریکہ اور نیٹو افواج کی موجودگی بہت مفید ثبات ہو گی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے قومی اور خارجہ امور سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں اس سے بڑھ کر زیادہ اہم یہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد افغانستان کو جو دفاعی اور معاشی وسائل درکار ہیں وہ میسر آ جائیں گے۔
نئی افغان حکومت اور دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اس اہم معاہدے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود عدم اعتماد اور باہمی توقعات پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے افغان صدر کی پہلی تقریر کو نہایت مثبت قرار دیا۔
’افغان صدر نے اپنی پہلی تقریر میں پالیسی بیان دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان یا دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور یہی پاکستان کا موقف ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت اچھی ابتدا ہے کہ سرحد کو سنبھالنے کا طریقہ کار بھی طے کیا جا سکے گا تاکہ یہاں سے کوئی وہاں نہ جائے اور نہ وہاں سے کوئی آئے۔
سرتاج عزیز نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ سرحدی واقعات کے حوالے سے جو باہمی اعتماد کا فقدان پیدا ہوتا تھا وہ کافی حد تک کم ہو جائے گا۔
پاکستانی دفتر خارجہ اور فوج کے بیانات میں بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ سرحدی خلاف ورزیوں اور ملا فضل اللہ کی حوالگی پر افغان حکومت مدد نہیں کر رہی نئی حکومت سے کیا توقع ہے ؟
اس کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جوابی حملہ افغانستان پر نہیں ہوتا۔
’پاکستان مخالف عناصر جب وہاں جا کر ہم پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان کی جانب سے جواب دینے پر وہ کہتے ہیں کہ یہ افغانستان پر حملہ ہے۔ہم خدانخواستہ افغانستان پر کیوں حملہ کریں گے لیکن ادھر سے ہم پر فائرنگ ہو گی تو ہمیں بھی جواب تو دینا پڑے گا۔‘
افغانستان کی نئی حکومت نے منگل کو امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی کے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے۔
بی ایس اے کی رو سے بعض مخصوص فوجی دستوں کو ملک میں رہنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ ’انسدادِ دہشت گردی‘ کی کارروائیاں کر سکیں اور افغان فوج کو ضروی تعاون اور تربیت فراہم کر سکیں۔
افغانستان میں آئندہ سال امریکی فوجیوں کی نصف تعداد رہ جائے گی اور پھر اس کے بعد سنہ 2016 کے اوائل میں اس میں بھی مزید کمی کی جائے گی۔







