شراکتِ اقتدار کا معاہدہ، اشرف غنی نئے افغان صدر

عبداللہ عبداللہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں امیدواروں نے متحدہ قومی حکومت بنانے پر اتفاق کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنعبداللہ عبداللہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں امیدواروں نے متحدہ قومی حکومت بنانے پر اتفاق کر لیا ہے

افغانستان کے دو حریف صدارتی امیدواروں ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے کابل میں ہونے والی ایک تقریب میں شراکتِ اقتدار کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

تقریب میں افغان صدر حامد کرزئی کے علاوہ افغانستان کے مختلف سیاسی دھڑوں کے راہنماؤں نے شرکت بھی شرکت کی۔ اپریل اور جون میں ہونے والی افغان صدارتی انتخابات کے بعد سے انتخابی نتائج کی وجہ سے ڈیڈلاک پیدا ہو گیا تھا۔

معاہدے کے تحت اشرف غنی صدر ہوں گے جب کہ عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹیو نامزد کریں گے۔ یہ عہدہ وزیرِ اعظم کے برابر ہو گا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ ان کے دو افغان بھائی اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ، افغانستان کے بہتر اور روشن مستقبل کی خاطر، باہمی صلاح و مشورے اور افہام و تفہیم سے آئندہ حکومت کے قیام پر متفق ہوگئے ہیں۔ انھوں نے دونوں راہنماؤں کو یقین دلایا کہ وہ اور ان کے ساتھی، افغانستان کے عام شہریوں کی حیثیت سے نئی حکومت کا ہر ممکن ساتھ دیں گے۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ ’آئیے سب مل کر دعا کرتے ہیں اور یہی افغان عوام کی آرزو بھی ہے کہ نئی افغان حکومت باہمی اتفاق اور افہام و تفہیم سے افغانستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو۔‘

مہینوں کے تعطل کے بعد افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے حریف اشرف غنی ہی کو ملک کا نیا صدر ہونا چاہیے۔

معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کو افغان سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمعاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کو افغان سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا

عبداللہ عبداللہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں امیدواروں نے متحدہ قومی حکومت بنانے پر اتفاق کر لیا ہے جس میں اشرف غنی صدر ہوں گے جب کہ عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹیو نامزد کریں گے۔

جون میں ہونے والے انتخابات کے بعد دونوں حریفوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب جولائی میں شروع ہونے والا 80 لاکھ ووٹوں کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

اشرف غنی کے ترجمان فیض اللہ ذکی نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ دونوں امیدواروں میں اب کوئی اختلاف باقی نہیں رہا: ’دونوں اطراف نے ہر بات پر سو فیصد اتفاق کر لیا ہے اور ہم کل معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔‘

صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو برتری حاصل تھی جبکہ دوسرے مرحلے میں اشرف غنی نے سبقت حاصل کر لی تھی۔

دوسرے مرحلے کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے سامنے آنے کے بعد عبداللہ عبداللہ کے حامیوں نے کابل میں مظاہرے شروع کر دیے تھے۔