عبداللہ عبداللہ کا ووٹوں کی پڑتال سے ’انکار‘ کا خدشہ

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی دونوں کا دعویٰ ہے انتخابات میں وہ کامیاب ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی دونوں کا دعویٰ ہے انتخابات میں وہ کامیاب ہوئے ہیں

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے امیدوار عبداللہ عبداللہ نے ووٹوں کی پڑتال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کو اس عمل سے نکال لیا ہے۔

عبداللہ عبداللہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم آج اس عمل میں دوبارہ شریک نہیں ہوں گے، بلکہ شاید کبھی بھی دوبارہ اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ عبداللہ عبداللہ کے اپنے مبصرین واپس بلا لینے کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے ولا انتخابی آڈٹ اب تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ آڈٹ کا عمل اگرچہ ’عارضی طور پر رکا ہوا ہے‘ تاہم ترجمان نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ اس عمل میں شدید خلل کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ دونوں صدارتی امیدوار، عبداللہ عبداللہ اور ان کے مخالف اشرف غنی، کا دعویٰ ہے انتخابات میں وہ کامیاب ہوئے ہیں اور دونوں نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات بھی لگا رکھے ہیں۔

اگرچہ دونوں امیدوار قومی اتحاد کی حکومت بنانے پر رضامند ہو گئے تھے لیکن ابھی تک اس معاملے پر وہ کسی معاہدے پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ کے نمائندوں کے غیر موجودگی میں آڈٹ جاری ہے
،تصویر کا کیپشنعبداللہ عبداللہ کے نمائندوں کے غیر موجودگی میں آڈٹ جاری ہے

اقوام متحدہ کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کا مکمل آڈٹ کا عمل گذشتہ ایک ماہ سے جاری ہے اور اندازہ ہے کہ اس میں مزید کچھے ہفتے لگ سکتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے ذاتی مداخلت کے باوجود اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں عبداللہ عبداللہ نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے تاہم وہ واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کے بعد جون میں انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اشرف غنی کو اپنے مخالف پر برتری حاصل ہو گئی تھی۔

اب انتخابی آڈٹ میں حصہ لینے والے عبداللہ عبداللہ کے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان لاکھوں بیلٹ پیپروں کو گنتی کے عمل سے باہر پھینک دیا جائے جو ان کے بقول دھاندلی سے ڈالے گئے تھے۔

عبداللہ عبداللہ کے کچھ حامیوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیں گے۔ کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان ایک نہایت خطرناک موڑ پر آن کھڑا ہوا ہے۔

عبداللہ عبداللہ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ہفتے جبکہ انتخابی آڈٹ اپنے آخری مراحل میں داخل ہونے جا رہا ہے اور ابھی تک محض چند بیلٹ باکس آڈٹ سے باہر پھینکے گئے ہیں، وہ لوگ آڈٹ کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق آڈٹ کا عمل جاری رکھنے کی غرض سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے منگل رات گئے دونوں امیدواروں کی ٹیموں سے ملاقاتیں جاری رکھیں اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ووٹوں کا آڈٹ جاری رہے گا، چاہے عبداللہ عبداللہ کے نمائندے اس میں شریک رہیں یا نہ رہیں۔

عبداللہ عبداللہ کے ترجمان فضل آقا حسین سنچارکی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اقوام متحدہ سے بات چیت جاری ہے۔ اگر کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو ہم واپس آ جائیں گے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہماری جانب سے یہ معاملہ اب ختم ہے۔‘

اس کے برعکس اشرف غنی کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ’ عبداللہ عبداللہ کے حامیوں کو پتہ ہے کہ وہ انتخابات ہار چکے ہیں۔۔۔وہ لوگ اب محض بہانے بنا رہے ہیں۔‘