افغانستان میں اتحادی حکومت کے معاہدے پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ افغانستان میں اتحادی حکومت کے لیے معاہدہ ہو گیا ہے جو کہ ’افغانی مسئلے کا افغانی حل ہے۔‘
دونوں حریف صدارتی امیدوار اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ جون میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر لڑتے آ رہے تھے۔
اِس معاہدے کے بعد گذشتہ چار ماہ سے جاری بحران کا خاتمہ ہوگیا ہے جس میں دونوں اُمیدواروں نے انتخابات میں اپنی اپنی فتح کا اعلان کیا تھا اور ایک دوسرے پر انتخابات کے دوران دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔
اشرف غنی نے جمعے کو کہا کہ ’ہم لوگ قومی اتحاد کی ایک حکومت بنائیں گے۔ ہمیں جو چیزیں متحد کرتی ہیں وہ اُن سے بہت زیادہ ہیں جنھوں نے ہمیں انتخابی مہم کے دوران دور کیا تھا۔‘
اس سے قبل جان کیری نے دونوں امیدواروں سے کابل میں ملاقاتیں کیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس مشترکہ اقتدار والی حکومت کی ساخت کیسی ہوگی۔
اشرف غنی نے زور دے کر کہا کہ جمعے کو جس معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں ان میں ’تعاون کا عہد کیا گيا ہے‘ جبکہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ دونوں نے ’ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔‘
امریکہ چاہتا ہے کہ ستمبر میں نیٹو کانفرنس سے قبل افغانستان میں نئی حکومت تیار ہو جائے۔
ہر چند کہ طالبان نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے تاہم اس سال کے آخر میں زیادہ تر غیر ملکی افواج افغانستان سے چلی جائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دراصل کون فتح یاب ہوا؟
امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے گذشتہ دورے کے دوران دونوں صدارتی امیدواروں نے ووٹ کی گنتی کی جانچ پڑتال پر رضامندي ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس کے نتیجے کو تسلیم کریں گے۔
اسی لیے 14 جون کو دوسرے مرحلے کے انتخابات کے تمام 80 لاکھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہو رہی ہے تاکہ تنازع کا حل نکل سکے۔
افغان الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ ابتدائی نتائج میں اشرف غنی کو56.44 فیصد ووٹ جبکہ عبداللہ عبداللہ کو 43.45 فیصد ووٹ ملنے کی بات کہی گئی تھی۔
بہر حال یہ نتیجے اپریل میں ہونے والے پہلے دور کے انتخابی نتیجوں کے بالکل برعکس تھے جس میں اشرف غنی دوسرے نمبر پر عبداللہ عبداللہ سے بہت پیچھے تھے۔
جان کیری نے پہلے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی اور پھر سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ اور سابق وزیر خزانہ اشرف غنی سے ملاقات کی۔
بعد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ان دونوں میں سے ایک صدر ہوں لیکن دونوں ہی افغانستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔‘
عبداللہ عبداللہ نے اس معاہدے کو ’ملک میں قومی اتحاد کے مفاد کو مضبوط کرنے کی سمت مزید ایک قدم، ملک میں قانون کی بالادستی، اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں امید افزا بتایا۔‘







