طالبان سے مذاکرات کے لیے افغانستان کو پاکستان کی ضرورت

افغان سکیورٹی فورسز طالبان کا اثر و رسوخ کم کرنے کی مہمات میں لگے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغان سکیورٹی فورسز طالبان کا اثر و رسوخ کم کرنے کی مہمات میں لگے ہوئے ہیں
    • مصنف, احمد رشید
    • عہدہ, کالم نگار

اب جبکہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایک نئی کابینہ کی رونمائی کر دی ہے انھیں فوری طور پر طالبان سے مذاکرات کی ضرورت ہے اور پاکستانی فوج کے جن جرنیلوں پر انھوں نے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے تکیہ کر رکھا ہے انھیں اشرف غنی کے لیے ان وعدوں سے کہیں زیادہ کچھ کرنا ہوگا جو انھوں نے افغان صدر سے کیے ہیں۔

اشرف غنی نے 29 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف لیا اور گذشتہ ہفتے ان کی انتخابی مقبولیت میں زبردست کمی آئی ہے۔

انتخابات کی طویل مدت اور اس کے بعد اس کے نتائج کے سلسلے میں پیدا شدہ تنازعات کی وجہ سے حکومتی شعبے تقریبا ایک سال تک بغیر کسی وزیر کے رہے۔

اب جبکہ ان کی کابینہ تیار ہو گئی ہے انھیں اپنی پالیسیوں اور پیش قدمیوں سے سرگرمی جاری رکھنی چاہیے جس سے عوام تک یہ پیغام جائے کہ وہ ایک سرگرم حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں جو ان کے لیے بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔

اشرف غنی نے نہ صرف پاکستان سے تعلقات بہتر کیا ہے بلکہ بھارت سے دوری برقرار رکھی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناشرف غنی نے نہ صرف پاکستان سے تعلقات بہتر کیا ہے بلکہ بھارت سے دوری برقرار رکھی ہے

اشرف غنی اور پاکستانی فوج کو بھی آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ واضح رہے کہ پاکستانی فوج پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے فیصلوں پر زبردست اختیار رکھتی ہے۔

افغانستان کے صدر کو پاکستانی جرنیل دوستانہ نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے پاکستان مخالف بیان بازیوں سے پرہیز کیا ہے اور سابقہ حکومت کے اپنے طویل دور میں اسلام آباد سے کبھی بھی کھلی دشمنی کا اظہار نہیں کیا ہے۔

اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اشرف غنی نے پاکستان کے قدیم ترین علاقائی حریف بھارت کا ابھی تک دورہ نہیں کیا ہے حالانکہ وہ چین سیمت اپنے تمام اہم پڑوسی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔

یہاں تک کہ انھوں نے بھارت کے تعاون سے ٹینک اور جنگی طیارے کی جدید کاری کے چار ارب ڈالر کے پلانٹ کو بھی بند کر دیا اور پاکستان کے ساتھ فوجی تعاون اور تربیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

پاکستان فوج نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان فوج نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے

کابل میں اب تک بھارت کے زبردست اثرورسوخ کے پیش نظر پاکستانی فوج اور جاسوسی اداروں کے سربراہ افغان رہنماؤں کے بارے میں خدشات کا شکار رہے جس کی وجہ سے وہ ماضی میں افغان طالبان کی حمایت کرنے لگے۔

علاوہ ازیں افغانستان نے طالبان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے اس پر پاکستان کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ میں تقریبا 1500 ا فغان فوجی پاکستانی طالبان سے ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے بر سر پیکار ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ انھوں ایک ماہ سے جاری مہم کے دوران 183 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ 122 کو زخمی کیا ہے۔

یہ کنڑ کے ہی پاکستانی طالبان تھے جنھوں نے دسمبر میں پیشاور کے آرمی سکول پر حملہ کر کے 150 لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ گروپ دیگر متعدد حملوں کے لیے بھی ذمہ دار ہے۔

اشرف غنی نے چین کے دورے میں طالبان کے ایک گروپ سے ملاقات کی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناشرف غنی نے چین کے دورے میں طالبان کے ایک گروپ سے ملاقات کی

ابھی تک پاکستانی فوج نے افغان طالبان کو کابل اور دوسرے شہروں پر حملے سے باز رکھنے کے لیے کسی شفاف حکمت عملی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور یہ حملے بے روک ٹوک جاری ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان میں ہتھیاروں کے سوداگر اور سمگلرز ابھی تک افغان طالبان کو اسلحہ بہم پہنچا رہے ہیں۔

تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ڈرامائی بہتری آئی ہے۔

دونوں اب اپنی طویل سرحد کی مشترکہ نگرانی کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کی فوج کے درمیان ہونے والی مسلسل فائرنگ میں بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

دونوں ممالک کے فوجی اور انٹیلیجنس سربراہوں کے درمیاں ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں تاکہ سرحدی مسئلے کو بہتر طور پر دیکھاجا سکے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ افغان حکام کی طالبان سے ملاقات کے بارے میں غور کریں گے لیکن پہلے صدر اشرف غنی اپنی حکمت عملی تو پیش کریں۔

اس بات میں بہت شک ہے کہ کیا اسلام آباد اتنا اثر و رسوخ رکھتا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور کر سکے۔ بہت سے طالبان پاکستان کے اہم خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر بالکل اعتماد نہیں کرتے۔

طالبان اس سے قبل امن معاہدے پر دستخط کرنے تک آ گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطالبان اس سے قبل امن معاہدے پر دستخط کرنے تک آ گئے تھے

بہر حال صدر غنی نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ افغان طالبان کی کوئٹہ اور پشاور شوریٰ تک رسائی چاہتے ہیں تاہم ابھی تک براہ راست مذاکرات کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہے۔

اس ضمن میں ایک پیش رفت ہوئی ہے اور وہ بھی گذشتہ سال جب صدر غنی چین کے دورے پر تھے تو چین نے طالبان کے ایک گروپ کو مدعو کیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آئی ایس آئی نے اس ملاقات میں چین سے کس قسم کا تعاون کیا تھا۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ طالبان کے مندوبین جن میں زیادہ تر دوحہ اور قطر میں مقیم رہنما شامل تھے وہ پاکستان جانے میں پس و پیش کا شکار رہتے ہیں۔

افغانیوں کی اکثریت پاکستان پر بالکل یقین نہیں کرتی یہاں تک کہ طالبان کی طویل عرصے تک حمایت کی وجہ سے اس کے خلاف نفرت کا جذبہ رکھتی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جسے فوج میں بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں ڈرامائی بہتری آئی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں ڈرامائی بہتری آئی ہے

سابق شمالی اتحاد میں بہت سی با اثر آوازیں ہیں۔ افغانستان کی پختون برادری کا یہ اتحاد طالبان حکومت کے خلاف سنہ 1996 میں قائم ہوا تھا اور وہ صدر غنی کی جانب سے اسلام آباد کی دلالی کرنے کا ناقد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو بہت زیادہ دے رہیں اور بدلے میں انھیں کوئی ٹھوس چیز نہیں مل رہی ہے۔

پاکستانی اداروں کی صدر غنی کی نازک حالت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے سامنے قدیم معاشی بحران، شورش اور ایک نئی حکومت ہے۔

افغان صدر کے لیے پاکستان جو کچھ کر سکتا اگر وہ اپنے ان اقدامات میں اضافہ نہیں کرتا تو افغان صدر کو سرحد پار سے خراب سکیورٹی صورت حال اور ملک کے اندروں میں زیادہ پرتشدد واقعات کا سامنا رہے گا۔

ایک ایسا افغان صدر جس کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہے اور جو کچھ کرنے کی حیثیت میں نہ ہو وہ پاکستان کے حق میں تو قطعی نہیں۔

پاکستان کے طاقتور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فوج نے یہ بیڑا اٹھا لیا ہے کہ وہ دہشت گردی کو ختم کرے گی اور پاکستان کی سرزمین کو بیرونی دہشت گردوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گي اور اب وہ اچھے اور برے طالبان میں تمیز نہیں کرے گي۔

کابل اور دوسرے شہروں میں طالبان کے حملے بے روک ٹوک جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکابل اور دوسرے شہروں میں طالبان کے حملے بے روک ٹوک جاری ہیں

یہ الفاظ اور عہد جو کہ پاکستانیوں کے لیے خوشگوار تبدیلیاں ہیں ان کا بڑا امتحان اس بات میں مضمر ہے کہ وہ کتنی جلدی افغان طالبان اور کابل کے درمیان مذاکرات کروا پاتے ہیں۔

تاخیر، ادھورا سچ اور ٹال مٹول جو کہ پہلے پاکستان کی افغان پالیسی کا اہم جزو ہوا کرتی تھیں اب وہ ممکن نہیں ہیں۔

افغانستان کے نازک حالات، پیرس حملے کے بعد پاکستان کو لاحق خطرات اور حملہ آوروں کی پشت پناہی کرنے والے کسی بھی ملک کے خلاف بین الاقوامی برادری کی بے صبری کے پیش نظر یہ بات واضح ہے کہ اب نئی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔