افغانستان میں اتحادی حکومت کی بالآخر تشکیل

اشرف غنی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناشرف غنی کے اقتدار کے بعد طالبان کے حملوں میں کافی اضافہ ہوا ہے

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بطور صدر حلف اٹھانے کے تین ماہ بعد قومی اتحاد کی کابینہ کا اعلان کیا ہے۔

کابل میں صدر غنی اور چیف ایگزیکیوٹو عبداللہ عبداللہ کی سربراہی میں ہونے والی تقریب میں انھوں نے 25 وزرا کا اعلان کیا۔

کابینہ کی تشکیل کا یہ اعلان دونوں سابق حریفوں کے درمیان بہت گھمبیر مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے۔ افغانستان میں گذشتہ سال متنازع انتخابات ہوئے تھے لیکن اب دونوں حریف ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

کابینہ کو اب پارلیمان کی منظوری لینا ہو گی۔

صدر غنی کی کابینہ میں تین خواتین ہیں جن کے پاس اموڑے خواتین، ثقافت اور اعلیٰ تعلیم کے قلم دان ہیں۔

جس طرح کے افواہیں گردش کر رہی تھیں صلاح الدین ربانی ہی وزیرِ خارجہ بنائے گئے ہیں۔ صلاح الدین سابق صدر برہان الدین ربانی کے بیٹے ہیں جو 2011 میں ایک خود کش حملے میں مارے گئے تھے۔

افغانستان نیشنل بینک اور افغانستان نیشنل سکیورٹی کی نئے سربراہان کا بھی اعلان کیا گیا۔

کابل میں بی بی سی افغانستان کے ایڈیٹر وحید مسعود کہتے ہیں کہ تمام کی تمام کابینہ نئے چہروں پر مشتمل ہے۔ کئی ایک کو تو عوام بالکل نہیں جانتی۔

افغانستان میں گذشتہ سال متنازع انتخابات ہوئے تھے لیکن اب دونوں حریف ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں گذشتہ سال متنازع انتخابات ہوئے تھے لیکن اب دونوں حریف ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ کئی نئے وزرا نوجوان ہیں اور برسوں سے جاری افغانستان کی سیاسی لڑائی اور جنگ کا مستقل حصہ نہیں رہے۔

صدر غنی کے چیف آف سٹاف عبدل سلام رحیمی کہتے ہیں کہ حکومت ان کے نام اعتماد کے ووٹ کے لیے پارلیمان کو بھیجے گی۔

کابینہ کی منظوری میں لمبی تاخیر کی وجہ سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ قومی اتحاد کی حکومت اس مسئلے پر گر جائے گی۔

گذشتہ ہفتے صدر غنی نے بطور صدر 100 دن مکمل کیے ہیں۔ انھوں نے 25 ستمبر کو حلف اٹھایا تھا۔ ان کے حریف کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات میں فراڈ کے بعد جیتے ہیں۔

امریکہ نے قومی اتحاد کی حکومت بنانے کے مذاکرات میں مدد کی ہے۔

رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق کابینہ میں دونوں حریف کیمپوں سے لوگ لیے گئے ہیں اور اس میں مشہور نسلی اور علاقائی نام شامل ہیں۔

صدر غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے کیونکہ جنگجو حکومت میں خلا کی وجہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔