افغانستان کے پڑوسی افغانستان میں مداخلت نہ کریں: چین

،تصویر کا ذریعہAFP
چینی وزیر اعظم لیکاچیانگ نے کہا ہے کہ چین کو یقین ہے کہ افغانستان اپنے مسائل خود حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس کے ہمسایوں کو اس کےاندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر پرامن ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
افغانستان کےصدر اشرف غنی کے چین کے دورے کے موقع پر چینی رہنما نےکہا کہ دنیا افغانستان کی خود مختاری، آزادی اور علاقائی وحدت کا احترام کرے اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس موقع پر طالبان کا براہ راست نام لے کر انھیں بین الاقوامی برادری کے حمایت یافتہ امن مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
افعان صدر اشرف غنی احمد زئی نے جمعے کو غیر معمولی طور پر براہ راست طالبان کو مخاطب کر کے انھیں مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت ایک ایسے وقت دی جب طالبان نے تقریباً ایک ماہ پہلے ہی قائم ہونے والی حکومت کو گرانے کے لیے شدت پسند کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
اے پی کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں افغانستان میں امن اور تعمیر نو کے موضوع پر منعقدہ ایک کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے صدر غنی نے طالبان کو بات چیت کی پیشکش میں کوئی مخصوص تجویز یا حل پیش نہیں کیا اور یہ عندیہ دیا کہ حکومتی سکیورٹی فورسز کارروائیوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم انھوں نے طالبان کو نام سے پکارا کیونکہ اس سے پہلے وہ مختلف عوامی سطح پر انھیں ’سیاسی حریف‘ کے طور پر مخاطب کرتے تھے۔
صدر اشرف غنی نے کہا: ’امن ہماری اولین ترجیح ہے، ہم سیاسی حزب اختلاف خاص کر طالبان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ افغان بات چیت کے عمل میں شامل ہوں اور ہم اپنے تمام بین الاقوامی اتحادیوں سے کہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں سربراہی اور قیادت میں امن کے عمل کو آگے بڑھائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایسے گروہوں کو بالکل اجازت نہیں دینی چاہیے جو بڑے فریب کے تعاقب میں ہماری ملک کو میدان جنگ بنا دیں۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اشرف غنی کے پہلے بین الاقوامی دورے کے دوران طالبان کو نام سے پکارنے کا کیا مخصوص مطلب ہو سکتا ہے۔
سابق افغان صدر حامد کرزئی طالبان کو اپنا’بھائی‘ کہتےتھے اور امریکہ کو اس کی فوج کی افغانستان میں موجودگی پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد طالبان نے خودکش حملوں، سڑک کنارے بم دھماکوں اور کابل پر راکٹ حملوں کے ذریعے نومنتخب صدر کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ ان کی حکومت دارالحکومت کا دفاع نہیں سکتی ہے۔
اس اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جی پنگ نے کہا کہ چین کو افغانستان پر اعتماد ہے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کر سکتا ہے لیکن اس کے ہمسایوں کو اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر پرامن ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا افغانستان کی خود مختاری ، آزادی اور علاقائی وحدت کا احترام کریں اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔







