کابل میں خودکش حملے میں سات افغان فوجی ہلاک

افغان فوجیوں کی بس پر ہونے والا یہ حملہ مغربی کابل کے علاقے میں ہوا جس میں بس پوری طرح تباہ ہوگئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنافغان فوجیوں کی بس پر ہونے والا یہ حملہ مغربی کابل کے علاقے میں ہوا جس میں بس پوری طرح تباہ ہوگئی ہے

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم از کم سات افغان فوجی ہلاک ہو گئے ہيں جبکہ بہت سے دوسرے زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب خودکش حملہ آور نے فوجیوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب شہر کے ایک اور حصے میں ایک دوسرے خود کش حملے میں ایک بس کو نشانہ بنایا گیا جس میں دو فوجی اور دو شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

فوجی بس پر ہونے والا یہ حملہ مغربی کابل کے علاقے میں ہوا جس میں بس پوری طرح تباہ ہوگئی۔

مقامی دکاندار ثناءاللہ خان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’میں سڑک کے کنارے جا رہا تھا جب زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے فوراً بعد میں نے وہاں گرد و غبار اور دھواں اٹھتے دیکھا اور میں وہاں سے بچ نکلا۔‘

دوسرا حملہ شمال مشرقی کابل میں ہوا۔

شمال مشرقی کابل میں ہونے والے دوسرے حملے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنشمال مشرقی کابل میں ہونے والے دوسرے حملے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں

یہ حملے افغانستان اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے جانے کے ایک دن بعد ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت امریکی فوج کو محدود تعداد میں افغانستان میں رہنے اور کارروائیاں کرنے کی اجازت ہوگي۔

پیر کو حلف لینے والے نئے صدر اشرف غنی نے اس معاہدے کی اجازت دی ہے۔

واضح رہے کہ اسی دن دو بم دھماکوں میں کم از کم 15 افراد کابل اور پکتیا صوبے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر غنی کے پیش رو سابق صدر حامد کرزئی نے اس امریکہ کے ساتھ تنازعے کے سبب اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

طالبان نے ٹوئٹر پر دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موسم گرما میں شروع ہونے والے آپریشن کا حصہ ہیں۔

امریکہ کی ثالثی میں طے ہونے والے فیصلے میں اشرف غنی صدر بنے جبکہ ان کے حریف کو چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ دیا گیا۔ طالبان نے اس معاہدے کو ’امریکہ کے ترتیب کردہ فریب‘ سے تعبیر کیا ہے۔