افغانستان: کابل ہوائی اڈے پر طالبان کا حملہ

،تصویر کا ذریعہAFP
افغان پولیس کا کہنا ہے کہ راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے لیس جنگجوؤں نے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کیا ہے تاہم اسے پسپا کر دیا گیا ہے۔
جمعرات کی صبح پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔
نائب وزیرِ سکیورٹی محمد ایوب سلانگی کا کہنا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کروا لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آخری حملہ آور نے سکیورٹی فورسز کی آمد کے پیشِ نظر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک خالی عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔ ہوائی اڈے کے حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تمام پروازوں کو افغانستان میں دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔
خودکش حملہ آور کے علاوہ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا کے ایک مصروف بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں کم سے کم 89 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔
مقامی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے ارگون ضلعے کے بازار میں بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ یہ بازار ماہ رمضان کے باعث خریداری کرنے والوں سے بھرا پڑا تھا۔ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ یہ افغانستان اسلامی امارت کے مجاہدین کا کام نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ ارگون کو پکتیکا صوبے کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم وہاں حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم اس سے قبل پکتیکا صوبے میں پاکستان کی سرحد کے قریب واقع فوجی اڈے پر ’غیر ملکی‘ شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں ہونے والی لڑائی میں درجنوں شدت پسند اور پانچ افغان فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
اس سے قبل گذشتہ ماہ افغانستان کے ننگرہار صوبے میں تورخم کے قریب نیٹو کے سپلائي اڈے پر ایک حملہ کیا گیا تھا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔
واضح رہے کہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے نیٹو فورسز جانے کا اعلان کر چکی ہیں۔







