کابل: خودکش حملے میں پانچ افغان فوجی ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ کابل میں فوج کی ایک بس پر خودکش حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح کابل یونیورسٹی کے قریب ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
گذشتہ ماہ صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کے قافلے پر بھی دارالحکومت میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے تاہم وہ بچ گئے تھے۔
افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی 2014 کے اختتام تک متوقع ہے۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی صبح افغان نیشنل آرمی (اے این اے) کی ایک بس کو ایک خود کش حملہ آور نے نشانہ بنایا جس میں اے این اے کےپانچ افسر ہلاک ہوگئے۔ ان کے مطابق اس کے علاوہ چار فوجی اور پانچ شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ یہ اے این اے کی ایئر فورس کی بس تھی۔
اس کے علاوہ گذشتہ ماہ بھی کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں ایک اعلیٰ سرکاری محمد معصوم ستانکزئی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ وہ اس سرکاری گروپ کے مشیر ہیں جو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا ذمہ دار ہے۔
یاد رہے کہ افغان عوام اس وقت صدارتی انتخاب کے دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں تاہم کابل کے کچھ علاقوں میں ان متنازع صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسرے اور حتمی انتخابی دور میں صدر کے عہدے کے امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے گذشتہ سنیچر کو ہونے والی پولنگ میں دھاندلیوں کی شکایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے اس میں دخل دینے کی مانگ کی تھی۔
پہلے مرحلے کی پولنگ میں ڈاکٹر عبداللہ کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے تھے لیکن انھیں ضروری واضح اکثریت نہیں مل سکی تھی جس کے سبب دوسرے مرحلے کا انتخاب کرنا پڑا اور اس میں دوسرے امیدوار ان کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے اشرف غنی ہیں۔
سرکاری طور پر انتخابات کا اعلان جولائی سے قبل نہیں کیا جائے گا۔







