کابل کے ہوائی اڈے پر خودکش حملہ، ’تین غیر ملکی ہلاک‘

کابل کا ہوائی اڈہ سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکابل کا ہوائی اڈہ سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے

افغانستان میں دارالحکومت کابل کے ہوائی اڈے کے باہر ایک خود کش دھماکے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں جن میں سے پولیس کے مطابق کم از کم تین افراد افغان حکومت کے غیر ملکی مشیر ہیں۔

اس کے علاوہ ایک افغان مترجم بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

غیر ملکی مشیروں کی قومیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ اب سے چند روز قبل ہی کابل کے ہوائی اڈے پر اس سال کا شدید ترین شدت پسند حملہ ہوا تھا۔

کابل کا ہوائی اڈہ سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں تحریکِ طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

کابل کا ہوائی اڈہ ملک میں نیٹو افوج کے لیے آپریشنل بیس ہے۔ شدت پسند اکثر ہوائی اڈے پر راکٹ حملے کرتے رہے ہیں مگر وہ اب تک ان حملوں میں اڈے کو زیادہ نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہوائی اڈے کی سکیورٹی انتہائی سخت ہے جس میں پولیس کے ساتھ فوجی بھی تعینات ہیں اور چوکیوں کے ساتھ ساتھ گارڈ ٹاور بھی ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا کے ایک مصروف بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں کم سے کم 89 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

مقامی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے ارگون ضلعے کے بازار میں بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ یہ بازار ماہ رمضان کے باعث خریداری کرنے والوں سے بھرا پڑا تھا۔

واضح رہے کہ ارگون کو پکتیکا صوبے کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم وہاں حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم اس سے قبل پکتیکا صوبے میں پاکستان کی سرحد کے قریب واقع فوجی اڈے پر ’غیر ملکی‘ شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں ہونے والی لڑائی میں درجنوں شدت پسند اور پانچ افغان فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ افغانستان کے ننگرہار صوبے میں تورخم کے قریب نیٹو کے سپلائي اڈے پر ایک حملہ کیا گیا تھا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔

واضح رہے کہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے نیٹو فورسز جانے کا اعلان کر چکی ہیں۔