افغانستان:’کابل، بگرام اور جلال آباد طالبان کا نشانہ‘

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں طالبان کے سالانہ موسم گرما کے حملے کی ابتدا کے اعلان کے بعد دارالحکومت کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ان کے حملے کی زد میں آیا ہے۔
پیر کو بین الاقوامی ایئرپورٹ پر دو راکٹ داغے گئے لیکن اس میں کسی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ہیں۔
دوسری جانب بگرام میں امریکی ایئر بیس پر بھی حملے ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ مشرقی علاقے جلال آباد کی ایک عدالت پر بھی حملے کی خبریں ہیں۔
افغانستان اس وقت عبوری دور سے گزر رہا ہے کیونکہ ایک نئے صدر آئندہ ماہ منتخب ہونے والے ہیں جبکہ غیر ملکی افواج رواں سال کے آخر میں افغانستان سے جانے والے ہیں۔
کابل میں بی بی سی کے نمائندے ڈیوڈ لائن کا کہنا ہے کہ حملے شروع ہوچکے ہیں، پوست کی فصل تیار ہے اور طالبان زیادہ آسانی کے ساتھ جنگجویانہ سرگرمیاں بحال کر سکتے ہیں۔
پیر کی صبح پہلا حملہ دارالحکومت کے مشرق میں قائم بگرام کے ہوائی اڈے پر ہوا جس میں ایک راکٹ بیس کے باہر گرا، جبکہ تین مزید راکٹ فائر کیے گئے، لیکن ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
اس کے بعد دو راکٹوں سے کابل کے ايئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تاہم اس میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ایئر پورٹ کھلا رہا۔

،تصویر کا ذریعہ
اس کے بعد افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں عدالت کی عمارت کے ساتھ ایک دوسری سرکاری عمارت میں بندوق برداروں نے دھاوا بول دیا۔ انھوں نے پہلے خودکش حملہ کر کے دروازے کو دھماکے سے اڑایا اور پھر اس میں داخل ہو ئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان سکیورٹی فورسز عمارت کا قبضہ واپس لینے کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔
ان کے علاوہ غزنی کے مرکز اور ملک کے جنوب مغربی علاقے ہلمند میں بھی حملوں کی خبریں ہیں۔
یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب ایک تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئي سی جی) نے متنبہ کیا ہے کہ اگر افغان فورسز کو مزید فنڈنگ نہیں ملی تو غیر ملکی فوجیوں کی واپسی کے بعد طالبان ملک میں زبردست فائدہ حاصل کر لیں گے۔
آئی سی جی نے کہا کہ اگر چہ طالبان اہم شہروں پر قبضہ نہیں کرسکتے لیکن دیہی علاقوں میں طاقت کا توازن چاقو کی نوک پر منحصر ہے۔
طالبان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ حملے افغانستان چھوڑنے والی نیٹو افواج کے انخلا سے قبل آخری حملے ہیں تاکہ ملک سے ’کافروں کی گندگی‘ کو دھویا جا سکے۔
افغانستان میں ابھی بھی امریکہ کی قیادت میں تقریباً 50 ہزار نیٹو افواج تعینات ہیں اور رواں سال دسمبر تک یہ افغانستان سے واپس چلے جائیں گے۔







