افغان صدارتی انتخاب: عبداللہ عبداللہ کی برتری برقرار

ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کے مطابق وہ انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے بھی تیار ہیں
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کے مطابق وہ انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے بھی تیار ہیں

افغانستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے اتوار کو جاری کیے جانے والے صدارتی انتخاب کے جزوی نتائج کے مطابق عبداللہ عبداللہ کو اپنے قریبی حریف اشرف غنی پر دس فیصد سے زیادہ ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پانچ اپریل کو ہونے والے الیکشن میں ڈالے گئے 70 لاکھ ووٹوں میں سے قریباً نصف کی گنتی ہو چکی ہے اور سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ نے ان میں سے چوالیس اعشاریہ چار جبکہ سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی نے تینتیس اعشاریہ دو فیصد ووٹ لیے ہیں۔

اس صورتحال میں ملک میں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کا انعقاد عین ممکن دکھائی دے رہا ہے۔

افغانستان میں انتخابی قواعد کے مطابق اگر کوئی بھی امیدوار صدارتی انتخاب میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرتا تو زیادہ ووٹ لینے والے امیدواروں کی فہرست کے ابتدائی دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ الیکشن ہوتا ہے۔

اگر تمام ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ صورتحال پیدا ہوئی تو الیکشن کا یہ دوسرا مرحلہ مئی میں ہوگا۔

اپنی برتری کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ ’یہ برتری متوقع تھی اور میں اس پر حیران نہیں ہوں۔ شاید ہم زیادہ برتری کی توقع کر رہے تھے لیکن ابھی نصف راستہ طے ہوا ہے اور ہم گنتی کے عمل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ ’ووٹوں کی گنتی کا عمل قانون کے مطابق مکمل ہوگا اور یہ عمل غیرجانبدار، شفاف اور منصفانہ ہوگا اور افغان عوام کو انتخاب کے نتائج کے بارے میں واضح معلومات میسر ہوں گی۔‘

عبداللہ عبداللہ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اگر بات انتخاب کے دوسرے مرحلے کی جانب بڑھتی ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ قانون کے مطابق ہوتا ہے تو ہم دوسرے مرحلے کے لیے بھی تیار ہیں۔‘

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں سے جو بھی نیا صدر منتخب ہو گا وہ ملک کے موجودہ صدر حامد کرزئی کی جگہ لے گا جو کہ ملک میں طالبان کے خلاف غیرملکی افواج کی آمد کے بعد سے اب تک اس عہدے پر فائز رہنے والی واحد شخصیت ہیں۔

عبداللہ عبداللہ سال 2009 کے انتخاب میں صدر کرزئی کے خلاف ایک اہم امیدوار تھے اور انتخابات میں واضح برتری حاصل نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی اور عبداللہ عبدللہ کو دوسرے مرحلے کے صدارتی انتحابات کے لیے اہل قرار دیا تھا۔

تاہم عبدللہ عبداللہ نے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ انتحابات کا پہلا مرحلہ شفاف نہیں تھا جس کے نتجے میں افغان الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی کو فاتح قرار دیا تھا اور وہ صدر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

اشرف غنی بھی 2009 کے صدارتی انتخاب میں امیدوار تھے مگر جیت نہ پائے۔ حامد کرزئی نے صدارت کے اپنے دوسرے دور میں انھیں بین الاقوامی افواج سے کنٹرول افغان افواج کو دینے کا کام سونپا اور وہ سنہ 2002 سے 2004 تک وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔