افغانستان: ’دو صدارتی امیدوار سب سے بہت آگے‘

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان میں صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ تازہ غیر سرکاری نتیجے کے مطابق دو امیدوار ديگر امیدواروں سے بہت آگے ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ بے ضابطگی کے الزامات سے یہ نتائج متاثر نہیں ہوں گے۔
افغانستان کے سابق وزیر خزانہ اشرف غنی نے کہا ہے کہ ابھی تک دس فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جن میں انھیں 50 فی صد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کو 35 فی صد ووٹ ملے ہیں۔
یاد رہے کہ ہر طرف سے ان انتخابات میں دھاندلی کی شکایتیں موصول ہوئي ہیں۔ امیدواروں کے پاس نصف شب تک اپنی شکایت درج کرانے کا موقع ہے۔
کابل میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے یہ انتخاب زیادہ منظم ڈھنگ سے منعقد کیا گیا ہے جبکہ لاکھوں ووٹوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سنیچر کو افغانستان میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے اور ابھی ان کی گنتی جاری ہے۔
ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ انتخابات میں واضح فاتح سامنے آنا چاہیے تاکہ ہم کہہ سکیں کہ عوام نے ہمیں اختیار دیا ہے۔
ان انتخابات میں طالبان کی دھمکیوں کے باوجود 70 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ ان کے ذریعے ملک میں پہلی بار جمہوری طور پر اقتدار کی منتقلی عمل میں آئے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان انتخابات میں کامیاب امیدوار کے نام کے اعلان میں ابھی ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والے آٹھوں امیدواروں میں سے اگر کوئی بھی 50 فی صدسے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا تو دوسرے دور کا انتخاب ہوگا جس میں دو سب سے زیاد ووٹ حاصل کرنے والوں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈوسٹ کا کہنا ہے کہ افغانستان نے پرامن انتخاب کے انعقاد سے ہی جیت حاصل کر لی ہے۔
طالبان کے حملوں، سردی اور بارش کے باوجود سنہ 2009 کے گذشتہ صدارتی انتخابات کے مقابلے ان انتخابات میں ووٹروں کی تعداد دوگنی تھی۔
دریں اثنا مختلف علاقوں سے مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایتیں آ رہی ہیں جن میں بعض جگہ بیلٹ پیپروں کی کمی بھی شامل ہے۔ تاہم ہمارے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ اعتماد نظر آیا ہے اور یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ تمام امیدوار نتیجے کو قبول کر لیں گے۔
اس سے قبل انتخابات کرانے والے حکام نے لوگوں سے صبر کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ جزوی نتائج اتوار کی صبح تک آنے شروع ہو جائیں گے لیکن بظاہر ایسا نظر آ رہا ہے کہ مکمل تصویر کے ابھرنے میں کم از کم ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔







