دھاندلی نتائج دھندلے نہ کر دے

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کابل
اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں سنیچر کے صدارتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات میں سکیورٹی اہم ترین عنصر ہوگا کہ ووٹر کتنے بےخوف ہوکر حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان کا صاف و شفاف انعقاد دوسرا اہم پہلو ہوگا جو اسے قابلِ قبول بنائے گا۔ ابھی پولنگ ہوئی نہیں اور پہلے سے عبداللہ عبدللہ جیسے بعض امیدواروں نے انگالیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔
ماضی کے انتخابات میں بھی دھاندلی کی وجہ سے لاکھوں ووٹ مسترد کیے جانے سے، اُن انتخابی نتائج پر داغ لگے۔ اس وقت مقامی جنگی سرداروں اور بااثر لوگوں کی مداخلت، سرکاری مشینری کا غلط استعمال، پولنگ کی مناسب نگرانی کی صلاحیت نہ ہونا اور انتخابی کمیشن کی کمزور خودمختاری آڑے آئی تھی۔ انتخانی حکام سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرے تاکہ ’بھوت‘ پولنگ سٹیشنوں کے قیام جیسا فراڈ ممکن نہ ہونے دیا جا سکے۔
عام شہریوں کو بھی تشویش لاحق ہے کہ کہیں حکومت تو کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔
کابل کے ایک شہری ولی محمد نے اپنی ترجیع اور تشویش بی بی سی اردو کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے دھاندلی نہ کی تو ان کے امیدوار ڈاکٹر اشرف غنی جیت جائیں گے ورنہ کچھ اور ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیسوں کے عوض ووٹ بیچنے کی کابل میں کوئی روایت نہیں ہے۔
دو ہزار نو کے صدارتی و صوبائی اور دو ہزار دس کے اولسی جرگے (قومی اسمبلی) کے انتخابات میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بڑی تعداد میں افغان ووٹ نہیں ڈال سکے تھے۔ لیکن اب الزام یہ ہے کہ امیدواروں نے اپنے حامیوں کے کئی کئی کارڈ بنوا دیے ہیں۔ کم عمر نوجوانوں کی بطور ووٹر اندراج بھی مسئلہ ہے جبکہ بااثر افراد کی دھونس دھندلی کا امکان بھی موجود ہے۔
ایمل خٹک ماضی کے انتخابات بھی کافی قریب سے دیکھ چکے ہیں۔ وہ ایک اور خدشہ ظاہر کرتے ہیں ’ڈیٹا مینوپلیشن (معلومات میں موڑ توڑ) کا خطرہ موجود ہے۔ پولنگ سٹیشن پر بھی گنتی ہو جاتی ہے پھر انھیں گننے کے لیے صوبائی دارالحکومت روانہ کیا جاتا ہے جہاں ایک کو ایک ہزار اور ایک ہزار کو ایک لاکھ کیا جانا آسان ہے۔ ان علاقوں میں سکیورٹی مسئلہ ہے لوگ اپنی مرضی کے امیدواروں کے ووٹ بھر دیں گے۔‘
افغانستان کے انتخابی کمیشن پر بھی لوگوں کی نظریں ہیں۔ ایمل خٹک کہتے ہیں کہ نئے کمیشن کا قیام اور اسے آزاد بنانے کے لیے قانون سازی تو ہوئی ہے اور کوئی بڑی شکایت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے لیکن ایک مسئلہ اس کی صلاحیت کا ہوسکتا ہے۔ ’کمیشن کا عملہ صلاحیت کے بجائے نسلی، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر لیے جانے کا امکان ہے۔‘
ایک اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ ماضی میں غیر ملکی افواج اور افغان سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں پولنگ سٹیشنوں کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ تھی اور ان سب کو مناسب سکیورٹی مہیا نہیں کی جاسکی تھی تو اب جب غیر ملکی فوجی نہیں رہے صرف افغان سکیورٹی ادارے کیسے چھ ہزار پولنگ سٹیشنوں کی نگرانی کرسکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی طرح افغانستان میں بھی میڈیا بہت قلیل مدت میں زیادہ پھلا پھولا ہے۔ انتخابی مہم اس پر بھی بھرپور انداز میں چلائی گئی۔ تو کیا میڈیا جانبداری اور نشریاتی دھاندلی سے پاک رہا؟ یہ سوال میں نے افغان صحافی سمی یوسفزئی کے سامنے رکھا۔
’اس مرتبہ انتخابی مہم جلسوں کی بجائے میڈیا پر چلی۔ گذشتہ دونوں انتخابات پر اٹھنے والے اخراجات کی مجموعی رقم سے زیادہ اس مرتبہ میڈیا پر اشتہارات اور بل بورڈز پر لگایا گیا۔ تاہم سب سے زیادہ مقبول بحث مباحثے رہے۔‘
کہا جا رہا ہے کہ افغانستان نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہے۔ اس وجہ سے آج کے انتخاب کو سابق انتخابات سے بہتر مانا جا رہا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سوالات اور الزامات پولنگ اور نتائج کے بعد نہیں اٹھائے جائیں گے۔ اس کا امکان موجود رہے گا۔







