افغانستان: فائرنگ سے غیرملکی خاتون صحافی ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں اطلاعات کے مطابق ایک شخص نے فائرنگ کر کے ایک غیرملکی خاتون صحافی کو ہلاک اور ایک اور خاتون صحافی کو شدید زخمی کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور پولیس کی یونیفارم میں ملبوس تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹر نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس حملے میں ایک خاتون صحافی ہلاک اور دوسری شدید زخمی ہوئی ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک بھر میں انتخابات کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
افغانستان میں سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقعے پر طالبان کی طرف سے حملے روکنے کے لیے دو لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
نئے منتخب ہونے والے صدر حامد کرزئی کی جگہ لیں گے جو سنہ 2001 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اقتدار میں ہیں۔ تاہم وہ افغان آئین کے تحت مسلسل تیسری بار صدارت کے عہدے لیے انتخابات نہیں لڑ سکتے۔
افغانستان میں پہلی بار جمہوری طریقے سے انتقالِ اقتدار ہوگا۔
لیکن آگے مشکلات بھی ہیں اور افغانستان سے نیٹو کی انخلا کے تناظر میں طالبان کی طرف خطرات بڑھ رہے ہیں۔
انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اتنظامات کیے گئے ہیں اور طالبان کے حملے روکنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ طالبان نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ایک بہت بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے حالیہ انتخابات کو سکیورٹی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہر پولنگ سینٹر کے اردگرد سکیورٹی کے حصار بنائے گئے ہیں جس میں پہلے دائرے میں پولیس اور باہر کی طرف سینکڑوں فوجی تعینات ہیں۔
خبروں کی ترسیل پر بھی حد بندی لگا دی گئی ہے اور یہ بتا دیا گیا ہے کہ امیدواروں کے بارے میں کیا نشر کیا جا سکتا ہے اور کیا نہیں۔
اگر صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔
کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی، الزام تراشی اور تشدد ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم کےدوران پہلے ہی کافی تشدد ہو چکا ہے اور دھاندلی کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
ان صدارتی انتخابات میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں دو سابق وزرائے خارجہ زلمے رسول، عبداللہ عبداللہ، اور سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی بھی شامل ہیں۔







