’نہ بھولیں کہ طالبان کو افغانستان کو آزاد کروانے کا حق ہے‘

سنیچر کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے طالبان نے پُر تشدد کارروائیوں کی دھمکیاں دی ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسنیچر کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے طالبان نے پُر تشدد کارروائیوں کی دھمکیاں دی ہیں
    • مصنف, طاہر خان
    • عہدہ, بی بی سی پشتو سروس، کابل

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ جمہوری نظام کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کے نظام کا نام اسلامی نظام ہے اور بہت زیادہ قربانیاں بھی اسلامی حکومت کے قیام کے لیے دی ہیں۔

افغانستان میں صدارتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ طالبان کا حق ہے کہ اپنے ملک کو آزاد کریں اور اس میں اسلامی نظام نافذ کردیں۔

اس سوال پر کہ انتخابی مہم میں صدارتی امیدواروں کے جلسوں میں طالبان کے حملوں اور دھمکیوں کے باوجود ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تو کیا طالبان لوگوں کے اس جمہوری حق کو تسلیم نہیں کرتے تو مجاہد نے کہا کہ جن لوگوں نے انتخابی جلسوں میں شرکت کی ہے وہ درحقیقت ’سیاسی امور کا ادراک نہیں رکھتے اور شہروں میں دشمن کی چھتریوں کے تلے زندگی گزار رہے ہیں۔‘

ادھر افغان حکومت کا یہ موقف ایک سیاسی تھیٹر سے کم نہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے باختر کے ایک مضمون کے مطابق طالبان کو اپنے نظریات دوسروں پر لاگو کرنے کے بجائے لوگوں کے جمہوری نظام میں ان کے کردار کا احترام کرنا چاہیے۔

طالبان ترجمان نے کہا ’آپ یہ بھی نہ بھولیں کہ وہ اکثریت جو خون، جان اور مال سے آزادی کے لیے جدوجہد اور جہاد میں مصروف ہیں اور جنہوں نے دن رات ایک کیا ہوا ہے، ان کا حق ہے کہ اصل فیصلہ کریں اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ملک کے لیے نظام منتخب کریں۔‘

طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جہادیوں کا بھی حق ہے کہ وہ اپنا نظام اپنے ملک میں نافذ کریں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنطالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جہادیوں کا بھی حق ہے کہ وہ اپنا نظام اپنے ملک میں نافذ کریں

مجاہد کے بقول غیر ملکی افواج کی موجودگی میں ’انتخابات اور ووٹ ڈالنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ پیسوں اور سازشوں کے ذریعے لاکھوں لوگ بھی دھوکہ کھا سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ طالبان ، جنھوں نے گذشتہ تیرہ برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی قوت کا مقابلہ کیا اور ان کو ’شکست سے دوچار کیا‘ ختم ہوگیا اور لوگوں کی جلسوں میں شرکت سے طالبان ختم ہوگئے۔ اس سوال پر کہ کیا طالبان صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے آٹھ امیدوارں میں کسی کو پسند کرتے ہیں جن میں دو سابق اہم جہادی رہنماء عبدالرب رسول سیاف اور حزب اسلامی حکمتیار گروپ کے قطب الدین حلال بھی شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جو غیر ملکی افواج کی موجودگی میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان میں کوی فرق نہیں۔

انتخابات کے بعد طالبان کی پالیسیوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ طالبان یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو طاقت کے زور پر آزاد کرائیں گے اور اسلامی نظام کو نافذ کرینگے۔