’رہنما مسلط کرنے سے عوام کو دوبارہ ووٹنگ کا موقع دینا بہتر‘

اگر دوسرے مرحلے کی ضرورت پڑی تو یہ الیکشن مئی میں ہوگا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناگر دوسرے مرحلے کی ضرورت پڑی تو یہ الیکشن مئی میں ہوگا

افغانستان کے صدارتی انتخاب میں باقی امیدواروں پر سبقت لے جانے والے دونوں امیدواروں نے کہا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی واضح اکثریت سے نہیں جیتتا تو وہ چاہیں گے کہ دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ ہو۔

سنیچر کو افغانستان میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے جن کی گنتی ابھی جاری ہے تاہم غیر سرکاری نتائج کے مطابق سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ ديگر امیدواروں سے بہت آگے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ نے منگل کو بی بی سی کے ڈیوڈ لیون سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام کو دوبارہ ووٹنگ کا موقع ضرور ملنا چاہیے۔

اس سوال پر کہ وہ اپنی جیت کے لیے کتنے پریقین ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ باقی تمام امیدواروں سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ وہ آخر تک مقابلہ کرنے کے قائل ہیں اور اگر بات دوسرے راؤنڈ تک جاتی ہے تو وہ اس کے حق میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بند دروازوں کے پیچھے مذاکرات کے نتیجے میں رہنما مسلط کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ عوام کو دوبارہ ووٹ ڈالنے کا موقع دیا جائے۔‘

ڈاکٹر اشرف غنی نے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’انتخابات میں واضح فاتح سامنے آنا چاہیے تاکہ ہم کہہ سکیں کہ عوام نے ہمیں اختیار دیا ہے۔‘

انھوں نے پیر کو کہا تھا کہ دس فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی ہے جن میں سے انھیں 50 فیصد جبکہ عبداللہ عبداللہ کو 35 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

اس انتخاب میں حصہ لینے والے آٹھوں امیدواروں میں سے اگر کوئی بھی 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا تو فیصلہ دوسرے دور کے انتخاب میں ہوگا جس میں دو سب سے زیاد ووٹ حاصل کرنے والوں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

ملک میں صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ طالبان کی دھمکیوں کے باوجود مجموعی طور پر پُرامن رہا تھا اور سنہ 2009 کے صدارتی انتخاب کے مقابلے اس الیکشن میں ووٹروں کی تعداد دوگنی یعنی 70 لاکھ سے زیادہ رہی۔

اگر دوسرے مرحلے کی ضرورت پڑی تو یہ الیکشن مئی میں ہوگا تاہم دوبارہ الیکشن کے انعقاد پر سکیورٹی کے تناظر میں تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔