بارہ بنکی اور خمینی: انڈیا کا وہ گاؤں جہاں کے لوگ اپنا شجرہ نسب ایرانی رہبرِ اعلیٰ سے جوڑتے ہیں

کھنڈرات

،تصویر کا ذریعہTariq/ BBC

،تصویر کا کیپشناترپردیش کے کنتور گاؤں میں کئی پرانی حویلیاں ہیں جہاں سے ایران کے پہلے رہبر اعلیٰ کا تعلق بتایا جاتا ہے
    • مصنف, سید معیز امام
    • عہدہ, بی بی سی، لکھنؤ
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے بارہ بنکی ضلع کا ایک گاؤں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے کی وجہ سے اس وقت سرخیوں میں ہے۔

کِنتور نامی یہ گاؤں ریاستی دارالحکومت لکھنؤ سے فیض آباد کو جوڑنے والی شاہراہ پر صفدر گنج موڑ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماہ رمضان کے سبب یہاں صرف چند لوگ ہی باہر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد سے ہی یہ گاؤں سرخیوں میں ہے۔

دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایران کے پہلے رہبرِ اعلیٰ اور روحانی پیشوا آیت اللہ روح اللہ موسوی خمینی کے آباؤاجداد اسی گاؤں میں رہتے تھے۔ اس گاؤں میں پہلے اہل شیع سادات (سید) کی بڑی آبادی تھی۔

گاؤں کے ایک رہائشی نہال کاظمی یہ دعوی پیش کرتے ہیں کہ ان کا رشتہ خمینی سے ملتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس گاؤں میں تقریباً 500 شیعہ گھرانے رہتے تھے۔ لیکن لوگ نقل مکانی کرتے گئے، اور اب صرف چار گھر رہ گئے ہیں۔‘

سید نہال کے ڈرائنگ روم میں آیت اللہ خمینی کی یہ تصویر آویزاں ہے
،تصویر کا کیپشنسید نہال کے ڈرائنگ روم میں آیت اللہ خمینی کی یہ تصویر آویزاں ہے

ایران کے نیشاپور سے تعلق

نہال کاظمی اپنے گھر کے سامنے والے کمرے میں بیٹھے ہیں۔ اس کمرے کی ایک دیوار پر آیت اللہ خمینی کی ایک بڑی تصویر آویزاں ہے۔

نہال کاظمی کا دعویٰ ہے کہ ’آیت اللہ خمینی کے پردادا سید احمد موسوی 19ویں صدی کے اوائل میں بارہ بنکی کے اس گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ سنہ 1834 کے آس پاس وہ اس وقت کے نواب آف اودھ کے ساتھ زیارت کے لیے ایران گئے تھے، لیکن واپس نہیں آئے اور وہیں آباد ہو گئے۔‘

وہ بتاتے ہیں: ’ہمارا ان سے تعلق یہ ہے کہ ان کے دادا، احمد حسین ہندی ہمارے پردادا کے چچازاد بھائی تھے۔‘

امریکی اور اسرائیلی حملوں میں خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سے کئی رپورٹرز نے اس گاؤں کا دورہ کیا ہے۔

اس گاؤں کے لوگ خامنہ ای کی موت پر سوگ منا رہے ہیں جس میں اہل تشیع اور سنی دونوں برادریوں کے افراد شامل تھے۔

گاؤں میں قدیم عمارتیں اور کئی صوفی بزرگوں کے مقبرے بھی ہیں۔

لکھنؤ میں مقیم ممتاز عالم سید علی ناصر سعید اباقاتی آغا روحی کے آباؤ اجداد کا تعلق بھی کِنتور سے تھا۔

انھوں نے بتایا: ’ایران کے پہلے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی کے آباؤ اجداد نے کِنتور سے ہی ایران کے علاقے خمین ہجرت کی تھی۔‘

آغا روحی کے بیٹے مولانا عباس ناصر اباقاتی کہتے ہیں: ’خمینی کے دادا سید احمد موسوی ہندی میرے والد کے پردادا کے چچازاد بھائی تھے۔ وہ ایران کے خمین میں آباد ہو گئے۔ وہاں ان کے گھر کو اب بھی بیت ہندی کہا جاتا ہے۔‘

لکھنؤ میں مقیم مورخ روی بھٹ نے بی بی سی کو بتایا: ’اودھ کے نواب بھی اہل تشیع تھے۔ اس لیے اس دور میں لکھنؤ اور آس پاس کے علاقوں میں ایک بڑی اہل تشیع آبادی رہتی تھی۔‘

انھوں نے کہا: ’یہ خیال ٹھیک ظاہر کیا جاتا ہے کہ خمینی کے آباؤ اجداد ایران کے صوبہ خراسان کے علاقے نیشاپور سے یہاں آئے تھے اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ آباد ہوئے تھے۔ کیونکہ اودھ کے دوسرے نواب صفدرجنگ بھی نیشاپور سے ہندوستان آئے تھے۔ اس لیے بہت سے لوگ نیشاپور سے ان کے ساتھ ہجرت کر کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے۔‘

اودھ کے دوسرے نواب صفدرجنگ نیشاپور میں 1708 میں پیدا ہوئے۔ ان کا مقبرہ دہلی میں انہی کے نام پر موجود صفدرجنگ علاقے میں واقع ہے۔

خمینی
،تصویر کا کیپشنایران کے اراک اور قم شہر کی دینی درس گاہوں کے مراکز میں درس و تدریس کے دوران ہی خمینی ایران کے شاہی سیاسی نظام کی مخالفت کرنے لگے اور اس کی جگہ اسلامی نظام کی بات کی
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

روشن تقی لکھنؤ کے ایک مورخ ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بارہ بنکی سمیت اتر پردیش کے کئی قصبے تاریخی طور پر پرانے ہیں۔ کچھ قصبوں کی تاریخ ہزار سال پرانی ہے۔

روشن تقی بتاتے ہیں: ’یہ بحث اسلامی انقلاب کے دوران شروع ہوئی تھی۔ اس دور کے علما کا ایک وفد ایران گیا اور خمینی سے ملا۔ آغا روحی بھی ان میں شامل تھے۔ اس وقت سے کہا جاتا ہے کہ خمینی کا تعلق ہندوستان کے کِنتور سے تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ابھی تک کسی نے اس دعوے کی تردید نہیں کی ہے۔ ایرانی حکومت نے کبھی بھی اس دعوے کو مسترد نہیں کیا۔‘

کِنتور سے تھوڑے فاصلے پر واقع رسول پور کے رہنے والے ریحان کاظمی پیشے سے ڈاکٹر ہیں لیکن ان کے بعض رشتہ دار وہاں آباد ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ بی بی سی فارسی کے سابق ایڈیٹر باقر معین نے خمینی کے انڈیا سے تعلق کے بارے میں بڑے پیمانے پر لکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’تقریباً 25 سال قبل ایران سے ایک ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کے لیے آئی تھی۔ لیکن اس کے بعد سے کچھ معلوم نہیں۔ ایرانی باشندے باقر معین نے اپنی کتاب ’خمینی‘ میں بتایا ہے کہ آیت اللہ خمینی کے آباؤ اجداد پہلے ایران کے نیشاپور سے ہندوستان آئے اور پھر ایران واپس چلے گئے۔‘

ایران میں نیشاپور اہل تشیع برادری کا ایک بڑا مرکز تھا۔ موسوی سادات شیعہ برادری کے ساتویں امام موسیٰ کاظم کی نسل سے ہیں۔

آیت اللہ روح اللہ خمینی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآیت اللہ روح اللہ خمینی ایرانی انقلاب کے روح رواں کہے جاتے ہیں

آیت اللہ روح اللہ موسوی خمینی کون تھے؟

آیت اللہ روح اللہ موسوی خمینی 1902 میں ایران میں پیدا ہوئے۔

روح اللہ کی پیدائش کے پانچ ماہ بعد ان کے والد سید مصطفی ہندی کی وفات ہو گئی۔ اپنے والد کی وفات کے بعد، خمینی کی پرورش ان کی والدہ اور خالہ نے کی اور انھوں نے اپنے بڑے بھائی مرتضیٰ کی نگرانی میں اسلامی تعلیم حاصل کی۔

روح اللہ خمینی کو اسلامی فقہ اور شریعہ میں خصوصی دلچسپی تھی اور انھوں نے مغربی فلسفہ کا بھی مطالعہ کیا۔

وہ ارسطو کو منطق کا جد امجد مانتے تھے۔

ایران میں اسلامی تعلیمی اداروں میں تدریس کے دوران انھوں نے بادشاہی پر مبنی سیاسی نظام کی شدید مخالفت کی اور ولایت فقیہ (مذہبی رہنما کی حاکمیت) نامی نظام کی وکالت کی۔

وہ ایران میں ایک ممتاز شیعہ عالم، سیاسی انقلابی اور رہنما تھے۔ وہ 1979 کے ایرانی اسلامی انقلاب کے بعد ملک کے پہلے رہبرِ اعلیٰ بنے اور 1989 میں اپنی موت تک اس عہدے پر فائز رہے۔

انھیں اسلامی انقلابی کا مرکزی رہنما سمجھا جاتا ہے جنھوں نے شاہ محمد رضا پہلوی کا تختہ الٹ کر ملک کو ایک اسلامی جمہوریہ میں تبدیل کیا۔

آیت اللہ خمینی کے دور میں ایران اور عراق نے آٹھ سال طویل جنگ لڑی۔ انھوں نے مصنف سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا۔

تاہم، جب وہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ تھے تو انھوں نے بارہ بنکی کے اس گاؤں سے کبھی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

کِنتور میں رہنے والے 76 سالہ افسر عباس نے بتایا کہ ان کے آباؤ اجداد اس گاؤں میں 700 سال سے رہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو خمینی کا نام سامنے آیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اسی جگہ کے رہنے والے تھے اور وہ انڈیا کے ضلع بارہ بنکی کے کِنتور کے رہنے والے تھے۔ تب ہی یہ واضح ہوا کہ ان کے آباؤ اجداد ہمارے گاؤں سے تھے۔‘

افسر عباس یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’اس وقت بھی کئی پریس والے ان کے گاؤں آئے تھے۔ انھیں پتہ چلا تھا کہ خمینی کے بہت سے رشتہ دار اس گاؤں میں رہتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوا کہ ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی تو پتہ چلا کہ ان کے آباؤ اجداد نے اس جگہ سے نقل مکانی کی تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ خمینی کے آباؤ اجداد کِنتور کے رہنے والے تھے۔‘

کنتور گاؤں کی مسجد

،تصویر کا ذریعہTariq/ BBC

،تصویر کا کیپشنکنتور گاؤں

افسر عباس بتاتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے انھیں بتایا کہ وہ گاؤں کے مشرقی حصے میں رہتے تھے۔ حالانکہ اب گاؤں میں ان کے گھر کا کوئی نشان نہیں ہے، لیکن اس گاؤں میں کئی پرانی عمارتیں ہیں۔

خمینی سے اپنا رشتہ بتانے والے نہال کاظمی کہتے ہیں: ’جب وہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ بنے اس وقت سے ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے، لیکن میں ایسے لوگوں سے ملا ہوں جنھوں نے ایک یا دو بار ایران کا دورہ کیا تھا۔‘

علی خامنہ ای کی موت پر انڈیا میں اہل تشیع برادری میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

کِنتور کے لوگ بھی مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ سے پریشان ہیں۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہاں سوگ کی تقریبات منعقد ہوئیں اور مظاہرے کیے گئے۔

علی خامنہ ای کی موت کے بعد اتر پردیش کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے اور انڈیا میں اہل تشیع برادری نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

لکھنؤ میں مظاہرے کے دوران لوگوں نے سوگ مناتے ہوئے اسرائیلی اور امریکی حملوں کی مذمت کی۔