کابل: افغان اہلکار کی فائرنگ سے تین امریکی ہلاک

حملہ آور پولیس حکام کی حراست میں ہے جبکہ اس کے اہل خانہ سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحملہ آور پولیس حکام کی حراست میں ہے جبکہ اس کے اہل خانہ سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے

امریکی حکام کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک افغان پولیس اہلکار کی فائرنگ سے تین امریکی ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق ہسپتال میں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے تینوں افراد طبی عملے کے اہلکار تھے۔

اطلاعات کے مطابق جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

امریکی مسیحی امدادی ادارے کے زیرانتظام چلائے جانے والے کیور ہسپتال میں زچہ و بچہ کا علاج کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق مطابق حملہ آور نے بعد میں خود کو بھی گولی مار دی تھی اور وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔

افغانستان میں پانچ اپریل کے انتخابات سے پہلے اور بعد میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

کابل میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ہم بہت دکھ کے ساتھ ہسپتال میں تین امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہیں۔‘

سفارت خانے نے اپنی ٹویٹ میں ان امریکیوں کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

کیور ہسپتال کا سات سال پہلے امریکی امدادی تنظیم نے کنٹرول سنبھالا تھا

،تصویر کا ذریعہcure.org

،تصویر کا کیپشنکیور ہسپتال کا سات سال پہلے امریکی امدادی تنظیم نے کنٹرول سنبھالا تھا

کابل میں پولیس حکام کے مطابق شہر کے مغربی علاقے میں واقع ہسپتال میں جب پانچ سے چھ غیر ملکیوں کا ایک گروپ داخل ہو رہا تھا تو اس وقت قریبی چیک پوسٹ پر موجود پولیس اہلکار نے فائرنگ شروع کر دی اور اس کے بعد ہتھیار خود پر تان لیا۔

اس پولیس اہلکار کا نام آیان اللہ بتایا گیا ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کے مطابق یہ اہلکار عوامی تحفظ کی فورس میں تعینات تھا اور کیور ہسپتال کی حفاظت کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق جلال آباد میں اس اہلکار کے اہل خانہ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

سات سال پہلے اس امدادی ادارے نے ہسپتال کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ ہسپتال میں 27 ڈاکٹر اور 64 نرسیں کام کرتی ہیں۔

افغانستان میں گذشتہ ہفتے ایک ہی دن طالبان نے نیٹو کے ٹھکانوں پر منظم حملے کیے تھے جن میں حکام کے مطابق 17 حملہ آور مارے گئے تھے۔ان حملوں میں مغربی ممالک کے سفارت خانے، نیٹو کے صدر دفاتر اور افغانستان کی پارلیمان کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔