امریکہ نے ہوائی اڈوں پر الیکٹرونک آلات کی چیکنگ سخت کر دی

امریکہ نے گذشتہ ہفتے ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے نئے سکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا تھا تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ نے گذشتہ ہفتے ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے نئے سکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا تھا تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں

امریکی حکام نے بیرونِ ملک ایسے ہوائی اڈوں کو الیکٹرونک آلات کی چیکنگ مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے جہاں سے براہِ راست امریکہ پروازیں جاتی ہیں۔

امریکی ٹرانسپورٹ حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسافروں سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے الیکٹرونک آلات کو آن کریں۔

حکام کے مطابق آن نہ ہونے والے الیکٹرونک آلات کو جہاز تک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جن ہوائی اڈوں کو الیکٹرونک آلات کی چیکنگ مزید سخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان میں لندن کا ہیھترو ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے گذشتہ ہفتے ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کے پیشِ نظر نئے سکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا تھا تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں انٹیلی جنس کی ان اطلاعات کے بعد کی گئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ شام اور یمن کے اسلامی شدت پسند ہوائی اڈے کی سکیورٹی کو دھوکہ دینے والے بم تیار کر سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق وہا ں ’قابل اعتبار‘ خطرہ تھا، تاہم انھوں نے ان اقدامات کو کسی مخصوص سیکورٹی تبدیلیوں سے منسلک نہیں کیا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے پاس بیرونِ ملک ہوائی اڈوں کی سکیورٹی کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہے تاہم ایئرلائنز اور ہوائی اڈوں کو پرازوں کی بلاِ تعطل روانگی قائم رکھنے کے لیے ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے قائم کردہ معیارات کی پابندی کرنی ہو گی۔

ٹی ایس اے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں الیکٹرونک آلات کی چیکنگ کی تفصیلات پہلی بار جاری کی گئی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکام سکیورٹی چیکنگ کے دوران الیکٹرونک آلات، جن میں موبائل فونز بھی شامل ہیں، کے مالکان کو انھیں آن کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

بیان کے مطابق آن نہ ہونے والے الیکٹرونک آلات کو جہاز تک جانے کی اجازت نہیں دے جائے گی اور ایسے شخص کی مزید چیکنگ بھی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مطالبات پر عمل کریں گے۔