اشرف غنی کی حکومت کے پہلے سو دن

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, داؤد قاری زادہ
- عہدہ, بی بی سی افغان سروس
افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی کو عہدہ سنبھالے 100 دن ہو گئے ہیں لیکن اب تک ان کی کابینہ کے ارکان پورے نہیں ہیں اور طالبان کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن وہ اب بھی پر جوش ہیں۔
ان کا اب تک کا سب سے بڑا اقدام گذشتہ برس امریکی قیادت میں بین الاقوامی فورسز کا جنگی آپریشن ختم ہونے کے بعد سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنا تھا۔
لیکن اب بھی ملک نگراں وزرا کے ہاتھوں چل رہا ہے اور شدت پسند اسی خلا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ناکامیوں کے باوجود کئی افغانیوں کا خیال ہے کہ اشرف غنی نے حامد کرزئی کے مقابلے میں اپنے منفرد انداز اور رفتار سے اپنی پہچان بنا لی ہے۔
مغربی صوبے ہرات کے مقامی حکام کو ان کے حالیہ ایک روزہ دورے کی قیمت اس وقت چکانی پڑی جب چند گھنٹوں میں ہی انھوں نے بدعنوانی اور سکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث درجنوں اہلکاروں کو ان کی ملازمتوں سے برخاست کردیا۔
ان میں صوبے کے 15 اضلاع کے پولیس سربراہان اور اعلٰی حکومتی اہلکار شامل تھے۔
رات گئے صدر اشرف غنی نے حیران اخباری رپورٹرز کو بتایا ’محمکۂ تعلیم، تیل و گیس، بجلی اور کسٹم کے سربراہان کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں۔‘
’ان تمام کو نوکریوں سے نکال دیا ہے اور تمام پر مقدمہ چلایا جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس روز نوکریاں کھونے والوں میں سے بیشتر کو طاقت ور تصور کیا جاتا تھا اور ان کے کافی مضبوط لوگوں سے تعلقات تھے اس لیے انھیں ناقابلِ گرفت تصور کیا جاتا تھا۔
گو کہ ان افراد کی جگہ تاحال نئی تقرریاں نہیں ہوئیں لیکن یہ اقدام اس حوالے سے ایک ٹھوس پیغام تھا کہ نئی حکومت کے تحت کسی بھی قسم کی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ہرات کا دورہ ان چند منفرد اقدامات میں سے ایک ہے جو ستمبر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اشرف غنی نے کیے ہیں۔ یہ معتدل مزاج سابق صدر حامد کرزئی کے برعکس ہیں۔

،تصویر کا ذریعہarg
ایک چیز جس کے بارے میں افغانی زیادہ بات کر رہے ہیں وہ ہے صدر کے مختلف ریاستی اداروں کے اچانک دورے۔ حالیہ مقامات میں پولیس چوکی، ہائی سکول اور کابل کی مرکزی جیل شامل ہیں۔
اشرف غنی اپنی گرم مزاجی کے باعث مشہور ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا بالخصوص اس وقت ہوتا ہے جب انہیں یہ احساس ہو کہ افسران اُن سے جھوٹ بول رہے ہیں۔
ان کے ایسے ہی دورے میں جب وہ ایک ہسپتال گئے جہاں عملے نے ان کے آنے کا سُن کر فرش کی تزیئن نو کر دی لیکن جب صدر کو اس بات کا پتا چلا انھوں نے اسی وقت تمام انتظامیہ کو نوکری سے نکال دیا۔
صدارتی محل کے عملے کا کہنا ہے کہ ماضی میں عالمی بینک کے ساتھ کام کا تجربہ رکھنے والے اشرف غنی بہت زیادہ محنتی ہیں۔ ان کے مطابق صدر ہفتے میں سات دن 18 گھنٹے تک کام کرتے ہیں۔
صدر کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ’روزانہ آٹھ گھنٹے ان مسائل کے لیے مختص ہیں جو سابقہ حکومت نے چھوڑے ہیں۔ جبکہ آٹھ گھٹنے لائحہ عمل اور حکمتِ عملی بنانے، دو گھنٹے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وقف ہیں۔ ‘
اشرف غنی نے سابق حکومت میں رائج غیر طے شدہ براہِ راست طویل ملاقاتوں کو ختم کر کے تمام رابطے تحریری طور پر کرنے کی ہدایت کی۔
صدارتی محل کے ذرائع کے مطابق ’صدارتی محل میں گذشتہ 100 دن میں اتنا کاغذ استعمال ہو چکا ہے جتنا پچھلے 13 برس میں بھی نہیں ہوا تھا۔‘
کئی عام افغان شہریوں کے لیے اشرف غنی کا طرزِ حکومت تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔
ایک سینیئر صدارتی مشیر حامداللہ فاروقی کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی دنوں میں ہی فوجی ہسپتال کے سربراہ کو نوکری سے نکالنے جیسے اقدامات نے تمام سرکاری ملازمین کے لیے ایک پیغام چھوڑا ہے کہ اُن کے ہر قدم کی نگرانی کی جاتی ہے اور ہر غلطی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔‘
لیکن اس بات سے تمام لوگ متفق نہیں ہے کہ یہ ایک طویل المداتی لائحہ عمل ہو سکتا ہے۔
ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی فارسی سروس کو بتایا کہ ’وہ انفرادیت پسند ہیں، بجائے اس کے کہ وہ نظام میں اصلاح کریں تاکہ چیزیں سیدھی ہوں وہ سب کچھ خود ہی کرنا چاہتے ہیں۔ ہر چیز کی بذات خود نگرانی کرنا چاہتے ہیں۔‘
اشرف غنی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پہلے 100 دنوں کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ اب تک اپنے انتخابات کے حلیف عبداللہ عبداللہ کے ساتھ مل کر ایک متحد کابینہ نہیں بنا پائے۔
لیکن اگلے 100 دن افغان قوم توقع کرے گی کہ ان کے صدر حکومت بنا لیں تاکہ وہ بڑے چیلنجز بالخصوص سکیورٹی میں بہتری اور معیشت کی بحالی جیسے مسائل سے نمٹ سکیں۔







