’ہم گیتا لوٹائیں، وہ گولے برسائیں‘

کراچی سے رخصت ہوتے ہوئے انھیں بہت سارے تحفے تحائف دیے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکراچی سے رخصت ہوتے ہوئے انھیں بہت سارے تحفے تحائف دیے گئے

پاکستان سے پیر کو بھارت واپس آنے والی گیتا دونوں ممالک میں سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہیں۔

یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ بھارت کی ایک لڑکی گیتا بھٹک کر پاکستان چلی گئی تھیں۔ بولنے اور سننے کی صلاحیتوں سے محروم گیتا 13 برسوں سے پاکستان میں رہ رہی تھیں جہاں پاکستان میں سماجی کاموں میں سرگرم تنظیم ايدھي فاؤنڈیشن ان کا خیال رکھ رہی تھی۔

پاکستانی سوشل میڈیا میں گیتا کو ’امن کی مثال‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ بعض بھارت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایک شخص نے killing__humor@ کے ہینڈل سے لکھا: ’انسانیت کی ایک مثال جو سرحدوں کو فتح کرنے میں کامیاب رہی۔‘

ٹوئٹر پر گیتا کی گھر واپسی کے تحت مختلف اقسام کے خیال ظاہر کیے گئے

،تصویر کا ذریعہtwitter

،تصویر کا کیپشنٹوئٹر پر گیتا کی گھر واپسی کے تحت مختلف اقسام کے خیال ظاہر کیے گئے

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی نے ٹویٹ کیا: ’ہندوستان کی گم شدہ لڑکی گیتا پیر کو بھارت پہنچ رہی ہے۔ وہ پاکستان سے امن اور محبت کا پیغام لے کر گئی ہے۔‘

RashidQutub@ نام کے ہینڈل سے ایک شخص نے لکھا: ’بات یہ ہے کہ آپ کا دل کتنا بڑا ہے! امپائر علیم ڈار آئی سی سی کی ڈیوٹی پر تھے تو انھیں جان کا خطرہ تھا۔ وہیں پاکستانی، گیتا کو بہت سے تحفوں کے ساتھ بھیج رہے ہیں۔‘

وہیں ایک شخص عمران خان مغل نےImrankhanmughal@ ہینڈل سے لکھا: ’گیتا پاکستان سے بھارت لوٹ گئی۔ امید ہے کہ آپ کو ہماری مہمان نوازی پسند آئی ہو گی؟‘

گیتا پیر کو پاکستان ایئر لائنز کی پرواز سے دہلی پہنچیں

،تصویر کا ذریعہPakistan High Commission

،تصویر کا کیپشنگیتا پیر کو پاکستان ایئر لائنز کی پرواز سے دہلی پہنچیں

ٹوئٹر ہینڈلburhanayyub@ سے ایک شخص نے ٹویٹ کیا: ’پاکستان پورے احترام سے گونگی بہری خواتین کو واپس کر رہا ہے جبکہ بھارت سرحد پر فائرنگ کر رہا ہے جس میں چھ معصوم پاکستانی زخمی ہو گئے ہیں۔‘

وہیں ایم طفیل احمد لکھتے ہیں: ’ہمیں ایسے مزید لوگوں کی ضرورت ہے جو نفرت پھیلانے والے لوگوں کو انسانیت سکھا سکیں۔ ايدھي صاحب کو سلام۔‘

واصف شکیل نےWasifshakil@ ٹوئٹر ہینڈل کے ساتھ ٹویٹ کیا: ’کم از کم بھارتی میڈیا کو ايدھی فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہنا چاہیے۔‘