سمجھوتہ ایکسپریس سے پاکستان آئی گیتا 13 سال بعد بھارت پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہPakistan High Commission

بھارتی شہری گیتا 13 برسوں کے بعد پاکستان کے شہر کراچی سے اپنے ملک بھارت پہنچ گئی ہیں۔

ان کے ہمراہ بلقیس ایدھی، صبا ایدھی اور حمزہ ایدھی سمیت پانچ افراد دہلی پہنچے ہیں۔

اس سے قبل ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ کراچی ایئرپورٹ پر سرخ جوڑے میں ملبوس گیتا کو عام شہریوں کی جانب سے تحائف اور پھول پیش کیے گئے۔ بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ گیتا کے خاندان کے لیے بھی تحائف لے کر جا رہی ہیں جس میں گیتا کی ماں کے لیے چار ساڑھیاں بھی شامل ہیں۔

گیتا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ گیتا کے خاندان کی تصدیق کے حوالے سے کچھ ابہام ہے لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے صورتحال واضح ہو جائےگی۔

ادھر بھارتی وزارت خارجہ بھی واضح کرچکی ہے کہ اگر ڈی این اے ٹیسٹ مثبت نہیں آتا تو بھی گیتا کو کسی محفوظ جگہ پر رکھنے کے انتظام کیے جائیں گے۔

عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی نے بتایا کہ گیتا کے بھارت جانے کے تمام انتظامات میں بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سراج نے اہم کردار ادا کیا اور وہ ان کے شکرگزار ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کراچی کی ایک مقامی عدالت میں گیتا نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ <link type="page"><caption> وہ کس طرح پاکستان پہنچیں اور ان کا گھر کہاں تھا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150903_indian_girl_geeta_return_diplomacy_rwa" platform="highweb"/></link>

ھارتی وزارت خارجہ بھی واضح کرچکی ہے کہ اگر ڈی این اے ٹیسٹ مثبت نہیں آتا تو بھی گیتا کو کسی محفوظ جگہ پر رکھنے کے انتظام کیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنھارتی وزارت خارجہ بھی واضح کرچکی ہے کہ اگر ڈی این اے ٹیسٹ مثبت نہیں آتا تو بھی گیتا کو کسی محفوظ جگہ پر رکھنے کے انتظام کیے جائیں گے

گیتا پیر کی صبح آٹھ بجے فلائٹ نمبر پی کے 272 سے کراچی سے روانہ ہوئیں جو صبح، دس بجکر 20 منٹ پر دہلی پہنچ جائے گی۔

گیتا نے جو بول نہیں سکتیں نے ہاتھ کے اشارے سے میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ گھر واپسی پر بہت خوش ہیں۔

فیصل ایدھی نے بتایا کہ ہندوستانی حکام نے گیتا اور ایدھی فیملی کے لیے ٹکٹ اور رہائش کا انتظام کیا ہے۔

’ڈاکومینٹ پر گیتا لکھا گیا ہے، خاندان ملے گا تو فیصلہ ہوگا۔‘

فیصل ایدھی نے بتایا کہ انھیں امید ہے کہ وہ گیتا سے رابطے میں رہیں گے اور جب بھی گیتا کو ضرورت ہوگی اس کی ایدھی خاندان سے بات بھی کروائی جائے گی اور وہ ان سے مل بھی سکیں گے۔