گیتا نے اپنے خاندان کی شناخت کر لی، ایدھی فاؤنڈیشن کا دعویٰ

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کراچی میں ادارے کے پاس مقیم 22 سالہ بھارتی لڑکی گیتا نے اپنے والدین کی شناخت کرلی ہے۔
ادھر بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ گیتا کی بھارت واپسی کی تیاریاں تقریباً مکمل ہیں لیکن اسے اس وقت تک کسی کے سپرد نہیں کیا جائے گا جب تک ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ تصدیق نہیں ہو جاتی کہ دعویٰ کرنے والے واقعی اس کے والدین ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے نگران فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ گیتا نے تصاویر کی مدد سے اپنے والد، سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کو شناخت کیا ہے۔
ان کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے انہیں کچھ تصاویر بھیجی تھیں جن میں سے ایک کو گیتا نے پہچانا ہے۔
خیال رہے کہ گیتا قوتِ سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایدھی فاؤنڈیشن کے سینیئر رضاکار انور کاظمی کا کہنا ہے کہ گیتا نے اپنے والد اور بہن بھائیوں کی شناخت کی۔ ان کے مطابق اس خاندان کا تعلق ریاست بہار سے ہے۔
انور کاظمی کے مطابق اب ان کی سکائپ پر بات کروائی جائے گی، جس سے مزید تصدیق ہو جائے گی۔
دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق جمعرات کو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’گیتا کو ہم نے تین مختلف فوٹو گراف بھجوائے تو اور ان میں سے ایک کو دیکھ کر اس نے کہا کہ وہ ممکنہ طور پر اس کے والدین ہو سکتے ہیں۔۔۔ لیکن گیتا کو ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہو جانے کے بعد ہی کسی کے سپرد کیا جائےگا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر گیتا کے والدین نہیں مل پاتے تو اسے ایسے کسی ادارے میں رکھا جائے گا جہاں اس کی مناسب دیکھ بھال ہو سکے اور حکومت نے اندور اور دہلی میں ایسے دو اداروں کا انتخاب کیا ہے۔
گیتا گذشتہ 13 برسوں سے فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن میں مقیم ہیں۔
وہ واہگہ بارڈر سے اتفاقی طور پر بذریعہ سمجھوتہ ایکسپریس پاکستان کی حدود میں داخل ہوئی تھیں۔ لاہور پولیس نے انھیں ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کیا اور کچھ عرصہ لاہور اور اسلام آباد میں مقیم رہنے کے بعد میں انھیں کراچی منتقل کر دیا گیا تھا۔
کچھ عرصہ قبل اداکار سلمان خان کی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں ایک ایسی ہی بچی کا کردار سامنے آنے کے بعد گیتا کی کہانی میڈیا میں دوبارہ سامنے آئی تھی۔







