’گیتا کی سٹوری چوری ہوئی، سرمایہ داروں نے پیسہ بنایا‘

پاکستان کے فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق گیتا نامی بھارتی لڑکی کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں بھارتی حکومت پہلے سے آگاہ تھی۔
بی بی سی کے نمائندے شاہ زیب جیلانی سے گفتگو میں ایدھی فاؤنڈیشن کی انتظامیہ میں شامل فیصل ایدھی نے بتایا کہ سنہ 2013 کے بعد اب ایک بار پھر بھارتی حکام نے گیتا سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غلطی سے سرحد پار کر کے بھارت سے پاکستان آنے والی گیتا کو سنہ 2003 میں پاکستان کے سرحدی حکام نے ان کے حوالے کیا تھا۔
سرحدی حکام نے ایدھی فاؤنڈیشن سے کہا تھا کہ بچی گونگی اور بہری ہے اس لیے آپ قونصلیٹ سے یا بھارتی حکومت سے رابطہ کر کے اسے بھارت پہنچا دیں۔
’ اگر ہم اسے عدالتی چکروں میں ڈالیں گے تو یہ ساری عمر جیل میں پڑی رہے گی۔‘
فیصل ایدھی کے مطابق ان کے ادارے نے گیتا کی حوالگی کے لیے متعدد بار بھارتی حکومت کو لکھا لیکن کوئی رد عمل نہیں ملا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2013 میں جب گیتا کا معاملہ میڈیا میں اٹھا تو بھارتی سفارت خانے سے ایک نمائندہ گیتا سے ملنے آیا تھا: ’ بھارتی ایمبیسی سے آنے والے نمائندے نے کہا کہ گیتا کے پاس چونکہ کوئی دستاویز نہیں ہے اس لیے انھیں جیل میں ڈالنا پڑے گا، پھر وہ دن ہے اور آج کا دن ہے بھارتی سفارت خانے سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق گیتا سے ملنے کے لیے بہت سے بھارتی وفد پاکستان آتے تھے اور ان کی تصاویر بناتے تھے اور ان کی کتابیں بھی لے کر جاتے تھے۔
فیصل ایدھی کا دعویٰ ہے کہ گیتا کی کہانی کو چوری کیا گیا اور ’بجرنگی بھائی جان‘ فلم انھی کی کہانی سے متاثر ہو کر بنائی گئی، سرمایہ کاروں نے پیسہ کمایا لیکن گیتا کو گھر پہنچانے میں مدد نہیں کی۔‘
گیتا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہندی سے ملتی جلتی ایک زبان میں لکھتی ہیں۔
فیصل ایدھی کہتے ہیں کہ یہ بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے جنوب میں ایک زبان مندرائی سے ملتی جلتی زبان ہے۔
اب اگلا قدم کیا ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں ایدھی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بھارتی ہائی کمشن نے آج ہی ان سے رابطہ کیا ہے اور آئندہ چند روز میں گیتا سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ وہ گیتا کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔







