پاکستان میں رہنے والی گیتا کو بجرنگی بھائی جان کی تلاش؟

پاکستان میں گذشتہ تقریبا 15 سالوں سے رہنے والی ایک بھارتی لڑکی ’گیتا‘ کو بظاہر ایک بجرنگی بھائی جان کی ضرورت نظر آ رہی ہے۔
اور اب ان کی تلاش جلد ہی ختم ہو سکتی ہے کیونکہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسلام آباد میں موجود بھارتی سفیر ٹي سی اے راگھون کو اپنی بیوی کے ساتھ گیتا سے ملنے کے ہدایات دی ہیں۔
سلمان خان کی نئی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ سے اس کو منسلک کرنے کا سبب بھی یہی ہے کہ اس فلم میں ہیرو بجرنگی بھائی جان اسی طرح بھارت میں پھنسی ایک لڑکی کو پاکستان میں رہنے والے اس کے خاندان سے ملوانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
سشما سوراج نے پاکستانی انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کی اپیل پر ٹوئٹر کے ذریعہ اس بات کی اطلاع دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہansar burney
انصار برنی نے گیتا کو بھارت میں رہنے والے ان کے خاندان سے ملانے کے لیے مہم شروع کر رکھی ہے۔
گیتا نہ بول سکتی ہیں اور نہ سن سکتی ہیں۔ گیتا تو ان کا اصلی نام بھی نہیں ہے۔ تقریبا 15 سال پہلے وہ بھارت سے ایک ٹرین کے ذریعہ لاہور پہنچ گئي تھیں۔ پاکستان پولیس نے انھیں معروف سماجی تنظیم ایدھي فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا تھا۔
ایدھي فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھي کی بیوی بلقیس ایدھي نے ہی ان کا نام ’گیتا‘ رکھ دیا کیونکہ اس لڑکی کے بارے میں کوئی بھی معلومات نہیں تھی۔
کچھ دنوں تک لاہور میں رکھنے کے بعد گیتا کو کراچی میں واقع ایک پناہ گاہ میں بھیج دیا گیا تھا۔ گیتا اب 23-24 سال کی ہو گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

وہ اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں بتا پاتی ہیں۔ اس سے پہلے سنہ 2012 میں بھی انصار برنی نے گیتا کو ان کے خاندان سے ملانے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں انھیں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔
انصار برنی ستمبر سنہ 2015 میں بھارت آ رہے ہیں۔ اور اسی لیے انھوں نے گیتا کے بھارتی خاندان کو تلاش کرنے کے لیے نئے سرے سے کوشش شروع کی ہے۔







