’افغان صدر اور بھارتی وزیر خارجہ اسلام آباد آئیں گے‘

سرتاج عزیز کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ جامع مذاکرات کس طریقے سے اور کن معاملات پر شروع ہوں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسرتاج عزیز کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ جامع مذاکرات کس طریقے سے اور کن معاملات پر شروع ہوں گے

پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کی پاکستان آمد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پر تعطل کسی حد تک ختم ہوا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے سشما سوراج اور افغان صدر اشرف غنی کی افغانستان کی صورتحال پر منعقد ہونے والے ’ہارٹ آف ایشیا‘ اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی۔

<link type="page"><caption> بینکاک میں پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151206_india_pak_nsa_meeting_sr.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’کسی شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے بھارت جانے کو تیار ہوں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/08/150822_sartaj_aziz_press_on_nsa_meeting_sr" platform="highweb"/></link>

’ہارٹ آف ایشیا‘ کی وزارتی سطح کی پانچویں کانفرنس آٹھ دسمبر سے اسلام آباد میں شروع ہو رہی ہے جس میں پاکستان نے بھارت کو بھی مدعو کیا ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سشما سوراج کل (منگل کو) پاکستان پہنچیں گی اور دورے کے دوران وہ اجلاس میں شرکت کے علاوہ وزیرِ اعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کریں گی۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق سشما سوراج نو دسمبر کو اسلام آباد میں بھارتی وفد کی قیادت کریں گی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزارت خارجہ کے مطابق سشما سوراج نو دسمبر کو اسلام آباد میں بھارتی وفد کی قیادت کریں گی

انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ خارجہ سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر بات ہوگی تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ جامع مذاکرات کس طریقے سے اور کن معاملات پر شروع ہوں گے۔

مشیرِ خارجہ نے کہا کہ سشما سوراج کی اسلام آباد آمد ’ایک اچھی ابتدا ہے کہ جو بات چیت میں ڈیڈ لاک تھا وہ کسی حد تک ختم ہوا ہے۔‘

سرتاج عزیز نے کہا کہ بینکاک میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیران کے درمیان ملاقات بھارتی وزیرِ اعظم کی تجویز پر ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف نے نریندر مودی سے پیرس میں ہونے والی ملاقات میں انھیں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں سشما سوراج کو بھیجنے کی دعوت دی تھی جس پر بھارتی وزیرِ اعظم نے پہلے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات پر زور دیا تھا۔

ان کے مطابق ’پھر یہ طے ہوا کہ قومی سلامتی کے مشیران کے علاوہ دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ بھی ملاقات میں ساتھ ہوں گے تاکہ کشمیر سمیت دہشت گردی کے علاوہ دیگر معاملات بھی بات ہو۔‘

خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکرات کا عمل ایک عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے روس کے شہر اوفا میں ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا اور کہا تھا کہ جلد پاکستان اور بھارت کے مشیر قومی سلامتی کے درمیان ملاقات ہو گی لیکن کشمیری قیادت سے ملاقات کے تنازع پر یہ بات چیت منعقد نہیں ہو سکی تھی۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کی تصویر بھی جاری کی

،تصویر کا ذریعہIndian Foreign Ministry

،تصویر کا کیپشنبھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کی تصویر بھی جاری کی

تاہم حال ہی میں پیرس میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان مختصر ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا گيا تھا۔

اسی تناظر میں اتوار کو پاکستان اور بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی کے درمیان تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں ملاقات بھی ہوئی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں دہشت گردی، لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سمیت تمام اُمور پر بات چیت کی گئی۔

قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کے بعد ایک مختصر بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق دونوں ممالک کے مشیروں کی ملاقات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی ہے اور دونوں ملک نے مستقبل میں بھی تعمیری بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔