تعلقات کو بہتر بنانے اور بڑھانے کا پیغام لے کر آئی ہوں: سشما

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو سدھارنے اور آگے بڑھانے کا پیغام لے کر آئی ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اسلام آباد پہنچ گئی ہیں۔

شمسا سوراج کے دورۂ پاکستان کو دونوں ملکوں میں کرکٹ کے شائقین بھی بڑی دلچسپی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور توقع ہے کہ اُن کے اس دورے کے دوران کرکٹ روابط بحال کرنے کے لیے بھی مثبت پیش رفت ہو گی۔

ان کے دورے کے پہلے دن پاکستان کےمشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

تین برسوں میں کسی بھی بھارتی وزیر خارجہ کا یہ پہلا پاکستان کا دورہ ہے۔

اس سے قبل قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ نے بینکاک میں اپنے بھارتی ہم منصب اجیت ڈوال سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری بھی موجود تھے۔

<link type="page"><caption> سشما سوراج کی آسلام آباد آمد پر میڈیا سے بات: دیکھیے</caption><url href="https://twitter.com/MEAIndia/status/674216968258519040" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہOther

’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اسلام آباد آمد پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے میڈیا سے مختصر بات چیت میں کہا کہ ان کے دورے کے دوران دونوں ممالک میں بہتر تعلقات پر بات چیت ہو گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ یہ کانفرنس پاکستان میں ہو رہی ہے اس لیے ’مجھ پر لازم ہے کہ میں وزیر اعظم نواز صاحب سے ملوں اور اپنے ہم منصب سرتاج صاحب سے بھی ملوں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

’دونوں سے میری ملاقات ہو گی اور دونوں سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سدھارنے اور آگے بڑھانے پر بات ہو گی۔ یہ کانفرنس نہایت اہمیت کی حامل ہے اس لیے اس میں شرکت کے لیے آئی ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں پیغام لے کر آئی ہوں کہ تعلقات بہتر ہوں اور آگے بڑھیں۔ باہمی ملاقاتوں میں بات کیا ہو گی وہ تو جاتے ہوئے ہی معلوم ہو گا۔‘

’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس استنبول عمل کا حصہ ہے، جو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے سنہ 2011 میں شروع کیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں پانچواں وزارتی اجلاس منگل اور بدھ کو پاکستانی دارالحکومت میں منعقد ہو رہا ہے جس میں بھارت سمیت دس ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہو رہے ہیں۔

اجلاس کے پہلے دن سینیئر حکام کا اجلاس ہوا ہے جبکہ بدھ کو پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی مشترکہ طور پر کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔

دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سینیئر حکام کے اجلاس میں افتتاحی خطاب کے دوران سرتاج عزیز نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس علاقائی تعاون اور رابطوں کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس سے رکن ممالک کو افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے نتیجہ خیز سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر افغانستان میں پراکسی وار کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ بھی معطل ہے اور سرتاج عزیز نے منگل کو جہاں یہ کہا کہ سشما سوراج کی اسلام آباد آمد ایک اچھی ابتدا ہے، وہیں ان کا یہ موقف بھی تھا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ جامع مذاکرات کس طریقے سے اور کن معاملات پر شروع ہو سکتے ہیں۔