پاکستان اور بھارت کا جامع مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان اور بھارت نے جامع مذاکرات کو نئے سرے سے بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے بعد کشمیر، انسدادِ دہشت گردی، سکیورٹی سمیت تمام مسائل پر مذاکرت کا دوبارہ سے آغاز ہو گا۔
بدھ کو اسلام آباد میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ جامع مذاکرات کا عمل بحال کرنے پر دونوں ممالک متفق ہیں۔
انھوں نے کہا ’جامع مذاکرات میں پہلے والے تمام عوامل شامل ہوں گے اور ان میں کچھ نئی چیزیں بھی شامل کی گئی ہیں۔‘
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ’دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں جامع مذاکرات کا شیڈول اور طریقہ کار ترتیب دیا جائے گا کہ مختلف اُمور پر مذاکرات کس کس سطح پر ہوں گے۔‘
یاد رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئی تھیں، جہاں انھوں نے وزیراعظم نواز شریف اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان اور بھارت کے وزیر خارجہ کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ’بھارت کو یقین دلایا گیا ہے کہ ممبئی حملوں کے مقدموں کا جلد فیصلہ کیا جائے گا۔‘
اعلامیے کے مطابق ’دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ دو طرفہ جامع مذاکرات کا طریقہ کار وضع کریں گے جس میں ماحول کو سازگار بنانا، کشمیر، سیاچن، ولر بیراج، انسداد دہشت گردی، امن اور سکیورٹی شامل ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
سشما سوراج نے ذرائع ابلاغ سے مختصر گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے مشیرانِ قومی سلامتی کے درمیان بینکاک میں ہونے والی ملاقات میں دہشت گردی اور اس سے منسلک مسائل پر بات کی گئی ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے جامع مذاکرات ہوئے، پھر دوبارہ نئے جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔‘
پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ مذاکرات سنہ 2012 میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے بعد معطل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے حکام سے ملاقات میں جو بات چیت ہوئی ہے اس پر وہ جمعرات کو بھارتی پارلیمان میں خطاب کے دوران تفصیل سے ذکر کریں گی۔‘
اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے پر زور دیا۔
وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز، سیکریٹری خارجہ اعزاز سید اور مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ موجود تھے۔
پاکستان اور بھارت میں طویل وقفے کے بعد بات چیت کے راستے ہموار ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان پیرس میں ماحولیاتی کانفرنس کے دوران مختصر بات چیت ہوئی تھی جس کے بعد گذشتہ ہفتہ پاکستان اور بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی نے بینکاک میں ملاقات کی تھی۔
پاکستان کا کہنا تھا کہ اس بات چیت میں کشمیر، دہشت گردی سمیت تمام مسائل زیر غور آئے اور دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی تعمیری مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
گذشتہ تین برسوں کے دوران کسی بھی بھارتی وزیر خارجہ کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب مسائل پر جامع مذاکرات کا سلسلہ سنہ 1998 میں شروع ہوا تھا۔
سنہ 1999 میں کارگل کی جنگ کے بعد یہ معطل ہو گئے۔ جس کے بعد سنہ 2004 اور سنہ 2005 میں جامع مذاکرات کے ادوار ہوئے تھے لیکن سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ ہو گئے تھے اور بات چیت کا سلسلہ بند ہو گیا تھا۔
سنہ 2010 میں ’دوبارہ جامع مذاکرات‘ کے نام سے شروع ہونے والے مذاکرات سنہ 2012 میں ختم ہو گئے تھے۔







