سونیا گاندھی اور راہل کو عدالت سے سمن جاری

کانگریس پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکانگریس پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں 19 دسمبر کو عدالت میں پیش ہونا پڑ سکتا ہے۔

اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے نیشنل ہیرلڈ کیس میں دونوں کے خلاف جاری سمن خارج کرنے سےانکار کردیا تھا۔

عدالت نے کانگریس کے رہنماؤں کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں جن سے قومی سیاست میں تلخِی اور بڑھ گئی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ بی جی پی انتقامی سیاست کر رہی ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عدالت نے دیا ہے جس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد سےکانگریس پارٹی نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی میں رخنہ ڈالا ہے۔

راہل گاندھی نے بدھ کو کہا کہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کی جانب سے انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے لیکن انھیں عدلت پر پورا اعتماد ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ ان کی سیاست کا یہیانداز ہے۔‘

لیکن بی جے پی کا موقف ہے کہ کانگریس پارٹی عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہی ہے، کیونکہ فیصلہ عدالت نے دیا ہے اور الزام حکومت پر رکھا جا رہا ہے۔

بی جے پی کے وزیر کا کہنا ہے کہ کانگریس پارلیمان کے ذریعے عدلیہ کو دھمکا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کے وزیر کا کہنا ہے کہ کانگریس پارلیمان کے ذریعے عدلیہ کو دھمکا رہی ہے

وفاقی وزیر وینکیا نائڈو نے کہا کہ کانگریس پارٹی ’عدالت کے فیصلے پر عمل نہیں کرنا چاہتی اور پارلیمان کے ذریعہ عدلیہ کو دھمکی دے رہی ہے۔‘

لیکن کانگریس کے سابق وزیر قانون اشونی کمار نے کہا کہ پارٹی کا احتجاج کسی ایک فیصلے کے خلاف نہیں بلکہ اس رحجان کے خلاف ہے جس کے تحت حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا چاہتی ہے۔ کانگریس کے وزرائے اعلی کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے لیکن بی جے پی اپنے وزرا کے خلاف الزامات سے چشم پوشی کر رہی ہے۔

نیشنل ہیرلڈ اخبار ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے قائم کیا تھا۔ یہ اب بند ہو چکا ہے۔ اسے ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کے نام سے ایک کمپنی چلاتی تھی۔ الزام ہے کہ اس کمپنی کے کئی سو کروڑ روپے کے اثاثے غیر قانونی طور پر ینگ انڈین پرائیویٹ لمیٹڈ نام کے ایک ادارے کو منتقل کر دیے گئے تھے، جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سونیا اور راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے کئی اعلیٰ رہنما شامل ہیں۔

بی جے پی کے رہنما سبرا منیم سوامی نے اس سلسلے میں سنہ 2012 مقدمہ قائم کرایا تھا اور ان کا الزام ہے کہ اس کمپنی کا ایک بڑا حصہ راہل اور سونیا گاندھی کی ملکیت ہے۔ عدالت نے دونوں کو طلب کیا تھا۔

بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی نے پہلے پہل اس معاملے کو عدالت میں پیش کیا

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی نے پہلے پہل اس معاملے کو عدالت میں پیش کیا

کانگریس نے سمن خارج کرانے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے اس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کانگریس کے رہنماؤں کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے۔

کانگریس کا الزام ہے کہ بی جے پی سبرامینم سوامی کو اس کے خلاف استمال کر رہی ہے۔ اگر سونیا اور راہل گاندھی کوسپریم کورٹ سے مدد نہیں ملتی تو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے انھیں 19 دسمبر کو ذیلی عدالت میں پیش ہونا پڑ سکتا ہے۔

اس کیس نے اچانک ملک کی سیاست میں پہلے سے جاری شدید اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ چند روز قبل ہی وزیر اعظم نے لمبے عرصے سے التوا کا شکار جی ایس ٹی بل کو منظور کرانے کے لیے کانگریس سے تعاون کی درخواست کی تھی، جی ایس ٹی بل حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کی ایک اہم کڑی ہے۔

اور اس نئے تنازعے سے لگتا ہے کہ یہ بل اب پھر کانگریس اور بی جے پی کے سیاسی اختلافات کی نذر ہو جائے گا۔