’مودی بھارت کی بنیاد کمزور کر کے اپنا انتخابی قرض چکا رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP ARCHIVE
بھارت میں کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے دہلی میں کسانوں کی ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
تقریباً دو ماہ کی چھٹی کے بعد واپس آنے والے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے کہا کہ آج ملک کے عوام کو احساس ہو چکا ہے کہ یہ حکومت غریبوں کی نہیں بلکہ صنعت کاروں کی ہے۔
اپنی تقریر کے آغاز میں ہی تیکھے تیور دکھاتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ: ’آج ملک کے لوگوں کو احساس ہے کہ یہ حکومت غریبوں کی نہیں بلکہ صنعت کاروں کی ہے۔ جب کسان سوتا ہے تو اسے یہ نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے اسے نہیں معلوم کہ کب اس کی زمین چھین لی جائے گی۔‘
انھوں نے وزیر اعظم مودی پر الزام لگاتے ہوئے کہا: ’مودی جی نے صنعت کاروں سے ہزاروں کروڑ کا قرض لے کر انتخاب جیتا ہے۔ اب یہ قرض بھارت کی بنیادوں کو کمزور کر کے چکایا جائے گا۔ اسی لیے یو پی اے کے زمین قانون کو کمزور کیا گیا اور دیگر کئی اقدام اٹھائے جائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
راہول نے کہا: ’مودی جی ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں لیکن انھیں ہندوستان کی طاقت نظر نہیں آتی۔ انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 60 سال کی گندگی صاف کرنے میں لگے ہیں۔ انھیں گذشتہ 60 سال کی آپ کی محنت نظر نہیں آتی۔ غیر ملکی زمین پر کہے جانے والے یہ الفاظ مودی جی کو زیب نہیں دیتے۔‘
انھوں نے کہا: ’ودربھ میں کچھ سالوں پہلے قحط پڑا تھا۔ میں نے زہر کی وہ بوتل دیکھی جسے پی کر کسان نے خود کشی کی تھی۔ ان کے بیوی بچے وہاں تھے، لیکن ان کا مستقبل وہاں نہیں تھا۔‘
سونیا گاندھی نے اس موقع پر کسانوں کی کثیر تعداد سے خطاب میں کہا: ’آپ نے ہمارے ارادوں کو مضبوطی فراہم کی ہے۔ ہم یہاں سے وزیر اعظم کو یہ سخت پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اب بہت ہو چکا۔‘
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ (ترقی) کا نعرہ دیا تھا ’لیکن انھوں نے کسانوں کو چھوڑ دیا۔ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ ’کسانوں کی آواز دب نہیں سکتی اور دبائی بھی نہیں جا سکتی۔‘
کانگریس کی ریلی کا افتتاح بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کیا۔
انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فصلیں تباہ ہونے کے بعد بھی مودی حکومت کو کسانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
منموہن سنگھ نے کہا: ’مودی حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کا پردہ فاش ہونے ہی والا ہے۔ مودی جی نے کسانوں کو کئی سبز باغ دکھائے تھے لیکن کسان آج مایوس ہیں۔‘







