راہول گاندھی’چھٹی‘ سے واپس

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی 56 دن کی چھٹی کے بعد جمعرات کی صبح دہلی لوٹ آئے۔
وہ فروری میں پارلیمان کے اہم بجٹ اجلاس سے قبل اچانک ’چھٹی‘ پر بیرون ملک روانہ ہوگئے تھے اور کانگریس پارٹی کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کی شکست کی وجوہات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تنہائی میں غور کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن ان کی عدم موجودگی سے پارٹی کو کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ حکمراں بی جے پی کا الزام تھا کہ ان کے اچانک چلے جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہےکہ سیاست میں ان کی کتنی دلچسپی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق وہ تھائی ایئرویز کی ایک پرواز سے دہلی لوٹے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اس دوران کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔
راہول گاندھی کے اچانک چلے جانے سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں اور بہت سے تجزیہ نگاروں کا یہ خیال بھی تھا کہ پارٹی کے سینیئر رہنما انہیں کانگریس کا صدر بنانے کی تجویز کے خلاف ہیں۔
یہی نہیں بلکہ راہول سیاست میں خود اپنے مستقبل پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ان کی قیادت میں کانگریس پارٹی کو اپنی تاریخ کی بدترین انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کانگریس میں اب ان کی قیادت کے انداز کے ِخلاف کھل کر آواز اٹھائی جا رہی ہے اور بہت سے رہنماؤں کا کہنا ہےکہ پارٹی کی کمان سونیا گاندھی کے ہاتھوں میں ہی رہنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہAP
لیکن زیادہ امکان یہ ہےکہ راہول گاندھی کو جلدی ہی کانگریس کا صدر منتخب کر لیا جائے گا اور وہ ایک نئی نوجوان ٹیم کے ساتھ بی جے پی کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارٹی کے رہنماؤں کو ان سے عام شکایت یہ ہے ک وہ ’فل ٹائم‘ سیاست نہیں کرتے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق نہ وہ پارلیمان میں کوئی تقریر کرتے ہیں اور نہ سوال پوچھتے ہیں، اور اکثر ایوان سے غائب رہتے ہیں جس سے تاثر یہ ملتاہے کہ سیاست میں ان کی اتنی دلچسپی نہیں ہے جتنی کانگریس جیسی بڑی پارٹی کے قائد کی ہونی چاہیے۔
بہرحال، عام تاثر یہ ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں وہ حکومت کے خلاف کسانوں کی ایک تحریک میں حصہ لیں گے۔
کسان اس قانون کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جس کے تحت حکومت ان کی زمینیں زیادہ آسانی سے حاصل کر سکتی ہے۔
پارٹی نے راہول گاندھی کی واپسی پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اب قومی سیاست میں زیادہ سرگرمی کے ساتھ حصہ لیں گے۔







