راہول گاندھی کی ’چھٹی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت میں کانگریس پارٹی کے نائب صدر اور سونیا گاندھی کے بیٹے راہل گاندھی نے چند ہفتوں کے لیے’چھٹی‘ لی ہے تاکہ وہ حال ہی میں پیش آنے والے واقعات اور پارٹی کے لیے مستقبل کی حکمت عملی پر غور کرسکیں۔
کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ چند ہفتوں کی چھٹی پر ہیں، انھیں کچھ وقت چاہیے ۔۔۔ اس بارے میں ہمیں جو بھی کہنا وہ کہا جاچکا ہے ۔۔۔ وہ چھٹی پر جاچکےہیں۔‘
لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے لیڈر ملک ارجن کھارگے نے کہا کہ ’وہ چھٹی پر ہیں، ٹھیک ہے، میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، کام ہوتا ہے تو ہم اجازت لیتے ہیں، ہم ان کی اور میڈم سونیا گاندھی کی رہنمائی میں کام کرتے رہیں گے۔‘
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے کانگریس پارٹی کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ’راہل گاندھی نے پارٹی صدر سونیا گاندھی سے کچھ وقت مانگا ہے کیونکہ وہ اپریل میں کل ہند کانگریس کمیٹی کے اجلاس سے پہلے حالیہ واقعات پر غور و فکر کرسکیں۔۔۔اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
کانگریس پارٹی گذشتہ برس مئی سے شدید مشکلات کا شکار ہے اور پارلیمانی انتخابات سے لے کر اب تک اسے لگاتار انتخابی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن پارٹی کو سب سے زیادہ شرمندگی کا سامنا دہلی کے انتخابات میں کرنا پڑا جہاں اسے 70 میں سے ایک بھی سیٹ نہیں ملی حالانکہ ریاست میں وہ 15 سال سے حکومت کر رہی تھی۔
راہل گاندھی کی ’چھٹی‘ کی خبر بہت غیرمعمولی ہے کیونکہ اگر انھیں پارٹی کی حکمت عملی کے بارے میں غور کرنا ہے تو چھٹی لینے کی کیا ضرورت ہے۔ اور ویسے بھی ان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ کل وقتی سیاست نہیں کرتے۔
انتخابی شکستوں کے بعد کانگریس کے ہی بہت سے رہنماؤں نے کھل کر کہا ہےکہ انھیں باقاعدہ طور پر پارٹی کی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔ تجزیہ نگار بھی انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ یا تو وہ خود قیادت فراہم کریں یا یہ ذمہ داری کسی اور کو سونپ دی جائے۔

،تصویر کا ذریعہAP
تجزیہ نگاروں کے مطابق کانگریس میں نوجوان حلقے اور بزرگ قیادت کے درمیان بھی رسہ کشی چل رہی ہے اور نوجوان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے احیا کے لیے نئے انداز کی سیاست کرنے کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ دن پہلے پارٹی کے ایک جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے کہا تھا کہ دہلی کے انتخابات میں راہل گاندھی اسی نئے انداز سے مہم چلانا چاہتے تھے جو عام آدمی پارٹی نے اختیار کیا ہے لیکن انھیں ایسا نہیں کرنے دیا گیا۔ ان کے اس بیان سے یہ مطلب اخذ کیا گیا تھا کہ پارٹی میں بزرگ رہنماؤں کی لابی اب بھی حاوی ہے۔
قیاس آرائیاں تو جاری ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ راہل گاندھی کی اس چھٹی کی اصل وجہ کیا ہے؟







