سونیا گاندھی بھی سچ بولیں گی

نٹور سنگھ کی کتاب سے سونیا گاندھی بہت ناراض ہیں اور جواب میں انھوں نے بھی ’سچ ظاہر کرنے کے لیے‘ کتاب لکھنے کی دھمکی دی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننٹور سنگھ کی کتاب سے سونیا گاندھی بہت ناراض ہیں اور جواب میں انھوں نے بھی ’سچ ظاہر کرنے کے لیے‘ کتاب لکھنے کی دھمکی دی ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

جب سے نہرو گاندھی خاندان کے پرانے معتمد اور سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی سے اپنے طویل مدتی رشتے کے کچھ دلچسپ راز ظاہر کیے ہیں اس بات پر دوبارہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ سنہ 2004 میں سونیا گاندھی نے وزیر اعظم بننے سے کیوں انکار کیا تھا۔

سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز سن رہی تھیں، جبکہ نٹور سنگھ کہتے ہیں کہ یہ آواز دراصل راہل گاندھی کی تھی۔

نٹور سنگھ کے مطابق راہل گاندھی کو فکر تھی کہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی طرح ان کی والدہ کو بھی قتل کر دیا جائے گا اور اس لیے انھوں نے سونیا گاندھی سے کہا تھا کہ انھیں وزیر اعظم کی کرسی سے دور رکھنے کے لیے وہ ’کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔‘

بیٹے کو ماں کی فکر ہو، یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اب راہل کا کام بہت حد تک آسان ہوگیا ہے۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کانگریس اب کچھ اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں خود کو یا پارٹی کے کسی رہنما کو وزیر اعظم کی کرسی سے دور رکھنے کے لیے راہل کو ذرا بھی مشقت نہیں کرنی پڑے گی۔

انھوں نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا لیکن نٹور سنگھ کی کتاب سے سونیا گاندھی بہت ناراض ہیں۔ اور جواب میں انھوں نے بھی ’سچ ظاہر کرنے کے لیے‘ کتاب لکھنے کی دھمکی دی ہے۔ کانگریس کو درپیش مشکلات کی شاید یہی سب سے بڑی وجہ ہے۔ پارٹی کوئی آسان راستہ اختیار نہیں کرتی۔ سوال آج پوچھیے، جواب دو تین سال بعد ملے گا۔

بنگلہ دیشیوں کی واپسی شروع؟

بھارت کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں بہت سے بنگلہ دیشی آباد ہیں جن کے خلاف ہندو سیاسی جماعتیں آواز اٹھاتی رہتی ہیں
،تصویر کا کیپشنبھارت کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں بہت سے بنگلہ دیشی آباد ہیں جن کے خلاف ہندو سیاسی جماعتیں آواز اٹھاتی رہتی ہیں

نریندر مودی جب وزیر اعظم نہیں بنے تھے تو انھوں نے مغربی بنگال اور آسام کے اپنے دورے میں یہ اعلان کیا تھا کہ ہندوستان میں آباد بنگلہ دیشی اپنا بوریا بستر باندھ کر تیار رہیں۔ پیغام یہ تھا کہ پولنگ کے بعد انھیں ان کے وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔

زیادہ تر لوگ سمجھ رہے تھے کہ نشانے پر وہ لوگ ہوں گے جو غیر قانونی طور پر ہندوستان میں بس گئے ہیں، لیکن ان غریبوں سے پہلے مصنفہ تسلیمہ نسرین کا نمبر آگیا۔ وہ لمبے عرصے سے جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور اب ہندوستان میں رہتی ہیں لیکن اس مرتبہ ان کا ویزا صرف دو مہینے کے لیے ہی بڑھایا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی ہے اور مسٹر سنگھ نے ان کی درخواست پرغور کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ تسلیمہ نسرین کے ویزے کی مدت بڑھا دی جائے۔ انھوں نے تو شایداپنا بستر اب کھول دیا ہو لیکن باقی لوگوں کے لیے کیا حکم ہے؟

ناتجربہ کار افسر کے خلاف کارروائی نہیں

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک کے نتیجے میں گذشتہ دنوں ایک سیاسی پارٹی تک منظر عام پر آگئی
،تصویر کا کیپشنبھارت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک کے نتیجے میں گذشتہ دنوں ایک سیاسی پارٹی تک منظر عام پر آگئی

ہندوستان میں بدعنوانی کے خلاف لڑائی نے اب نئی شکل اختیار کرلی ہے۔

مہاراشٹر کی حکومت نے ایک غیر معمولی حکمت عملی اختیار کرنا شروع کی ہے۔ اس نے انسداد بدعنوانی بیورو کو محکمہ تعلیم کی ایک خاتون افسر کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ حکومت کے مطابق رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کی جانے والی خاتون نے صرف چھ مہینے پہلے ہی کام کرنا شروع کیا تھا اور کارروائی کی اجازت دینے سے اس کا کریئر برباد ہو جائے گا۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ناتجربہ کار افسروں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں ملے گی اور تجربہ حاصل کرنے کے بعد وہ گرفت میں آتے نہیں۔