کون سب سے لمبی؟ دیپیکا، قطرینہ، ہما یا پریتی

بھارت میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے منعقد ہونے والے ایک امتحان کے سوال اداکاراؤں کے قد کے بارے میں بھی تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبھارت میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے منعقد ہونے والے ایک امتحان کے سوال اداکاراؤں کے قد کے بارے میں بھی تھے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

اگر آپ کو معلوم ہے کہ ہما قریشی، قطرینہ کیف، دیپکا پاڈوکون اور پریتی زنٹا میں سے کس کا قد سب سے لمبا ہے تو بس آپ یہ سمجھیے کہ آپ کے دن بدل سکتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ صحیح جواب دینے سے ان میں سے کوئی ہیروئن آپ کی زندگی میں آ سکتی ہے لیکن آپ سرکاری عیش و آسائش کے خواب دیکھنا ضرور شروع کر سکتے ہیں کیونکہ یہ سوال ہندوستان کے سٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحان میں پوچھا گیا ہے۔

افسوس کہ ان بےچاریوں (اداکاراؤں) کو علم ہی نہیں کہ ایک نئے مضبوط ہندوستان کی تعمیر میں وہ کتنا اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کا قد سرکاری ملازمتوں کے خواب دیکھنے والوں کی ذہانت ناپنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

دنیا کے سب سے امیر غریب

مکیش امبانی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔ ریلائنس انڈسٹریز کے مالک اور ہندوستان کے سب سے امیر شخص لیکن دنیا میں دس بیس لوگ ان سے بھی زیادہ امیر ہیں۔ بے پناہ دولت کے باوجود وہ خود سادگی سے رہنا پسند کرتے ہیں، اور اپنے بچوں کو بھی انھوں نے سادگی ہی کی تربیت دی ہے۔

مکیش امبانی بھارت کے امیر ترین شخص ہیں اور ان کا گھر دنیا کا سب سے مہنگا گھر ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمکیش امبانی بھارت کے امیر ترین شخص ہیں اور ان کا گھر دنیا کا سب سے مہنگا گھر ہے

ممبئی میں ان کا گھر ان کی سادہ طبعیت کا عکاس ہے۔ فوربز میگزین کے مطابق یہ دنیا کا مہنگا ترین گھر ہے اور اس کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر یا 60 ارب روپے بتائی جاتی ہے۔ اگر آپ کو یہ سمجھنے میں اب بھی دشواری ہو رہی ہو کہ یہ کتنی رقم ہوئی تو بس یوں سمجھیے کہ اگر آپ کا خاندان بڑا ہو تو اس عمارت کو بیچ کر ایک ایک کروڑ روپے کے چھ ہزار فلیٹ خرید سکتے ہیں۔

لیکن اگر آپ نے ایسا کیا تو وہ چھ سو لوگ بے روزگار ہوجائیں گے جو اس گھر میں کام کرتے ہیں۔

مکیش امبانی کے بیٹے آکاش اب جوان ہوگئے ہیں اور بحیثیت صنعت کار انھوں نے اپنا پہلا انٹرویو دیا ہے جس میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی والدہ نیتا امبانی نے شروع سے ہی انھیں سادگی کا سبق پڑھایا اور انھیں ہمیشہ ہی پیسے کی قدر کرنا سکھایا گیا۔

انھوں نے کہا: ’جب ہم سکول میں تھے تو اپنے دوستوں کے مقابلے میں ہمیں جیب خرچ برائے نام ہی ملتا تھا، یونیورسٹی میں بھی ہمارا پورا خرچ ممی خود اپنے ہاتھ سے ہی دیتی تھیں۔‘

مکیش امبانی کے پشت پر نیلے شرٹ میں ان کے بیٹے آکاش امبانی کو دیکھا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمکیش امبانی کے پشت پر نیلے شرٹ میں ان کے بیٹے آکاش امبانی کو دیکھا جا سکتا ہے

دو تین سال پہلے آکاش کی والدہ نیتا امبانی نے بھی ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انھوں نے اپنے بچوں کو بگڑنے سے کیسے بچایا اور ان کی غیر معمولی اور ہوش ربا قربانیوں کی داستان سن کر بہت سے غریبوں نے شاید شکر ادا کیا ہوگا کہ انھیں سادگی سے رہنے کے لیے اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی۔

مثال کے طور پر نیتا امبانی کا یہ اصول تھا کہ چھٹیوں میں جب امریکہ سے بچوں کے گھر لوٹنے کا وقت ہوتا تو انھیں لانے کے لیے وہ اپنا پرائیویٹ جیٹ کبھی نہیں بھیجتی تھیں۔ بے چارے بچوں کو جہاز میں دوسرے ایسے لوگوں کے ساتھ سفر کرنا پڑتا ہوگا جو کبھی خود اپنا جیٹ نہیں خرید پائے۔

بچوں کی پرورش کیسے کی جائے، نیتا، مکیش اور آکاش امبانی کو اس پر ایک کتاب ضرور لکھنی چاہیے۔ لیکن جب تک یہ کتاب شائع ہو آپ ذرا خیال رکھیے گا کہ بچوں کو گھر لانے کے لیے پرائیویٹ جیٹ کبھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔