غربت کی لکیر جسے کروڑوں روزانہ پار کر جاتے ہیں

بھارت میں اب جو شخص 32 روپے سے زیادہ کماتا ہے وہ سرکاری طور پر خط افلاس سے اوپر مانا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں اب جو شخص 32 روپے سے زیادہ کماتا ہے وہ سرکاری طور پر خط افلاس سے اوپر مانا جاتا ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

غربت کی لائن آف کنٹرول

ملک میں کچھ اور بدلے نہ بدلے، غریبوں کی تعداد بدلتی رہتی ہے۔ پہلے جو غریب تھے انھیں بتایا گیا کہ آپ غربت کے دائرے سے باہر نکل آئے ہیں بس آپ اپنے معمولات زندگی میں اتنے مصروف رہے کہ آپ کو پتہ نہیں چلا۔

اب حکومت کی انتھک کوششوں کی وجہ سے بہت سے لوگ جو خوش حالوں کے زمرے میں آگئے تھے، انھیں بتایا جارہا ہے کہ معاف کیجیے گا، آپ دراصل غریب ہی ہیں، حساب لگانے میں ذرا چوک ہوگئی تھی۔

حکومت کی تشکیل کردہ ایک کمیٹی کا اب کہنا ہے کہ ملک کی سوا ارب آبادی میں سے تقریباً 36 کروڑ لوگ غریب ہیں۔ پہلے یہ تعداد تقریباً 27 کروڑ تھی۔ دراصل پہلے دیہی علاقوں میں روزانہ 27 روپے فی کس سے کم میں گزر بسر کرنے والوں کو غریب مانا جاتا تھا، اب یہ رقم پانچ روپے بڑھاکر 32 روپے کر دی گئی ہے۔

اس سے تقریباً ساڑھے نو کروڑ نئے غریب بھی عجیب کشمکش کا شکار ہوں گے، نہ انھیں کبھی یہ خبر ہوئی ہوگی کہ وہ امیر ہوگئے اور نہ یہ کہ وہ کب دوبارہ غریب ہوگئے۔

غربت کی یہ ایک ایسی حیرت انگیز لائن آف کنٹرول ہے جس کے دونوں طرف رہنے والے کروڑوں لوگ شاید روزانہ نہ چاہتے ہوئے بھی دن میں کئی بار اسے پار کرتے ہوں گے۔

صاف شفاف سیاست

ایچ ڈی کمارا سوامی نے کہا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو دوسری پارٹیاں نہیں کرتیں

،تصویر کا ذریعہPTI and AFP

،تصویر کا کیپشنایچ ڈی کمارا سوامی نے کہا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو دوسری پارٹیاں نہیں کرتیں

بھارت کے سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کے بیٹے ایچ ڈی کماراسوامی نے ایمانداری کا نیا معیار قائم کیا ہے۔

وہ جنوبی ریاست کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں اور ایک آڈیو ٹیپ میں مبینہ طور پر ایک سیاسی رہنما سے ریاست کی قانون ساز کونسل کی ایک سیٹ کا سودا کرتے سنائی دے دیتے ہیں۔ بات 40 کروڑ روپے سے شروع ہوتی ہے اور 25 کروڑ پر اٹک جاتی ہے۔

کماراسوامی نے اس بات سے انکار نہیں کیا ہے کہ ٹیپ میں آواز ان کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو دوسری جماعتیں نہیں کرتیں، اور ان کے مطابق ’بات کا بلا وجہ بتنگڑ بنا دیا گیا ہے، جیسے انھوں نے کوئی گناہ کیا ہو۔‘

مسٹر کماراسوامی کی تعریف کی جانی چاہیے کہ انھوں نے صاف شفاف سیاست کی غیر معمولی مثال پیش کی ہے۔

ہندوستانی کونڈم

برازیل میں سب سے زیادہ مقبول وہ ورلڈ کپ سپیشل ثابت ہوا ہے جسے برازیل کے قومی ہرے اور پیلے رنگوں میں رنگا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبرازیل میں سب سے زیادہ مقبول وہ ورلڈ کپ سپیشل ثابت ہوا ہے جسے برازیل کے قومی ہرے اور پیلے رنگوں میں رنگا گیا ہے

برازیل میں میدانوں پر پاکستانی فٹبال اور میدان سے باہر ہندوستانی کونڈم اپنا جوہر دکھا رہے ہیں، اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ دنیا میں فٹبال کے اس سب سے بڑے جشن سے برصغیر کا تعلق بس آدھی رات کو ٹی وی پر میچ دیکھنے تک ہی محدود ہے۔

برازیل میں فٹبال جنون کی حد تک مقبول ہے۔ یہ تو دنیا جانتی ہے لیکن ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں اور عشق کے امتحانوں میں ہندوستانی کونڈم سب سے زیادہ مقبول ثابت ہو رہے ہیں۔ برازیل ہر سال تقریباً ایک ارب کونڈم درآمد کرتا ہے اور ان میں سےتقریباً ایک تہائی ہندوستان کی سرکاری کمپنی ایچ ایل ایل لائف کیئر سپلائی کرتی ہے۔

اخبارات کے مطابق گذشتہ برس کمپنی نے برازیل کو 34 کروڑ کونڈم سپلائی کیے تھے۔ اس سال یہ تعداد چھ مہینے میں ہی 40 کروڑ کی تعداد پار کر چکی ہے اور تخمینوں کے مطابق وہاں آج کل روزانہ 20 لاکھ کونڈم فروخت ہو رہے ہیں۔

اور سب سے زیادہ مقبول وہ ورلڈ کپ سپیشل کونڈم ثابت ہوا ہے جسے برازیل کے قومی رنگوں میں رنگا گیا ہے، ہرا اور پیلا۔

حب الوطنی بھی، جوش بھی اور ہوش بھی۔ لیکن ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ اگر برصغیر کے کسی ملک کے قومی رنگوں کو کونڈم کے لیے استعمال کیا جاتا تو اس کونڈم، اسے بنانے والی کمپنی اور استعمال کرنے والوں کا کیا حشر ہوتا؟