ٹیپو کی لاش پر کانگریس کی سیاست

ٹیپو سلطان کو برطانیہ کے خلاف لڑنے والا بہادر تصور کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنٹیپو سلطان کو برطانیہ کے خلاف لڑنے والا بہادر تصور کیا جاتا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کی ریاست کرناٹک میں ٹیپو سلطان کے خلاف ہندو تنظیموں کا احتجاج جاری ہے۔ آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور بی جے پی ٹیپو سلطان کےسخت خلاف ہیں اورکسی عمارت، سڑک یا علاقے کا نام ٹیپو کےنام سے منسوب کرنے کی مخالفت کررہی ہیں۔

ٹیپو سلطان 18ویں صدی میں میسور کےحکمراں تھے اور ان کی حکمرانی تقریباً انھیں علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی جو اس وقت کرناٹک ریاست کےنام سےجانا جاتا ہے۔ مورخین ٹیپو کو ایک دوراندیش اور اعتدال پسند حکمراں قراردیتے ہیں اورعام طور پرانھیں اپنے عہد سےآگےکی سوچ رکھنے والا حکمراں سمجھا جاتا رہا ہے۔

بھارت میں ایک عرصے سے ہندو پرست مورخین بھارت کی تاریخ کو اپنے نظریے کےمطابق نیا رنگ دینے کی کوشش کرتےرہے ہیں۔ تاریخ کی نئی تشریح کی اسی کوشش کےتحت ماضی کےبہت سے مغل مسلم حکمرانوں کو حکمران کےطور پر نہیں بلکہ ان کے مذہب کےپیرائے میں دکھایا جا رہا ہے۔

کرناٹک کے گاؤں میں ہندو رہنماؤں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہImran Qureshi

،تصویر کا کیپشنکرناٹک کے گاؤں میں ہندو رہنماؤں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

تاریخ کی اس تشریح کے تحت ماضی سے بہت سے ایسے حکمرانوں کو قومی ہیرو اورہندوئیت کے علمبردار کے طور پردکھایا جا رہا ہے جنھوں نے مسلم حکرانوں سے جنگیں لڑی تھیں۔

شیواجی اور رانا پرتاپ جیسے حکمرانوں کو قومی آئیکون کا درجہ دے دیاگیا ہے۔ کانگریس سمیت ملک کی سیاسی جماعتوں نے ماضی کےان حکمرانوں کو ایسا مذہبی رنگ دے دیا ہے کہ علمی بحث و مباحثے میں بھی ان حکمرانوں کی انتظامی اور عسکری نظام کی نکتہ چینی کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔

حالیہ برسوں میں ہندو احیا پرستی اور سخت گیریت کی جو تحریک چلی ہے ان میں مہاراشٹر،گجرات اوراترپردیش کے ساتھ کرناٹک کا بھی شمارہوتا ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کی حکومت ہے لیکن ریاست میں سخت گیر ہندو تنظیموں کا بول بالا ہے۔

مراٹھا رہنما شیواجی کی پزیرائی کی ایک وجہ ان کی بادشاہ اورنگزیب کی مخالفت بھی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمراٹھا رہنما شیواجی کی پزیرائی کی ایک وجہ ان کی بادشاہ اورنگزیب کی مخالفت بھی ہے

حالیہ مہینوں میں اعتدال پسندی اور سیکولراز م کی بات کرنے والےریاست کے دو سرکردہ ادیبوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ٹیپو کی حمایت میں آواز اٹھانے والے سرکردہ کنڑ زبان کے ادیب اوراداکار گریش کرناڈ کو موت کی دھمکی دی گئی ہے۔

ریاست میں حالات کشیدہ ہیں۔ ہندو تنظیمیں انتہائی جارحانہ رویے کے ساتھ سرگرم ہیں۔ ان تنظیموں کی طرف سے ٹیپو سلطان کے خلاف پمفلٹ اور کتابچے جاری کیے جاتےرہے ہیں۔

ٹیپو کا جنم دن آتا رہا اور جاتا رہا۔ ٹیپو کی یادگار پر کچھ لو گ انھیں یاد کر لیتے ہیں۔ ان حالات میں کانگریس حکومت کی طرف سے ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش منانےکا اچانک اعلان کرنا واضح طور پر سیاسی محرکات پرمبنی ہے۔ کسی نے کانگریس سے یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ ٹیپوکو ریاستی ہیرو کا درجہ دیا جائے یا ان کی تقریبات منائی جائیں۔

ریاست میں ہندو تنظیمیں ٹیپو سلطان کی تقریب کے جشن کے خلاف ہیں

،تصویر کا ذریعہANURAG BASAVARAJ

،تصویر کا کیپشنریاست میں ہندو تنظیمیں ٹیپو سلطان کی تقریب کے جشن کے خلاف ہیں

ریاست کی ساری ہندو تنظیمیں سڑکوں پرنکل آئی ہیں۔ وہ سوال کررہی ہیں کہ کانگریس کو اچانک ٹیپو کی یاد کیسے آئی۔ یہ تنظیمیں یہ الزام لگاتی ہیں کہ کانگریس نے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ٹیپو کی تقریبات منانے کا فیصلہ کیا ہے بھلے ہی مسلمان اس سے لاتعلق ہوں۔

کانگریس نے ٹیپو کا مردہ اکھاڑ کر ریاست کے مسلمانوں کو سخت گیر ہندو تنظیموں کےسامنے کھڑا کر دیا ہے۔ بھارت میں یہ ایک ایسا وقت ہےجب ہندو پرست مورخین ماضی کے مسلم حکمرانوں کو ہندو دشمن اور غیر ملکی قرار دینے پرزور دے رہے ہیں سخت گیر تنطیمیں ملک کے ہر پہلو کو ہندو پیرائے میں دیکھنا چاہتی ہیں۔

یہ انگوٹھی ٹیپو سلطان کو روادار سلطان کے طور پر پیش کرتی ہے

،تصویر کا ذریعہChristies

،تصویر کا کیپشنیہ انگوٹھی ٹیپو سلطان کو روادار سلطان کے طور پر پیش کرتی ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس کو ٹیپو یا اس کی تاریخ سےکوئی غرض نہیں ہے وہ صرف نفرت پیدا کرنے کی سیاست کر رہی ہے۔ کرناٹک میں ایک کمزور اور بے اثرحکومت ہے۔ ریاست میں کشیدگی پھیلی ہوئی ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں بس کسی بہانےکی تلاش میں ہیں۔ معمولی سی بھی لغزش ریاست کی فضاکو تباہ کر سکتی ہے۔