ٹیپو سلطان کے متعلق ٹوئٹر پر بے لگام جنگ

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
ہندوستان میں ماضی کی سلطنت میسور کے معروف بادشاہ ٹیپو سلطان پر مائکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر متنازع اور بے لگام بحث چھڑی ہوئی ہے۔
یہ تنازع یومِ جمہوریہ کے موقعے پر دہلی میں نکالی جانے والی ثقافتی جھلکیوں میں ٹیپو سلطان کی وارثت کی پیش کش کے بعد شروع ہوا۔
بھارت کے معروف اخبار دا ہندو کے مطابق ٹیپو سلطان کی وراثت کی بابت ’بے لگام لفظی جنگ‘ جاری ہے جو بعض اوقات انتہائی نچلی سطح اور گالی گلوج تک پہنچ جاتی ہے۔
ریاست کرناٹک جہاں میسور کی سلطنت ہوا کرتی تھی اس نے یوم جمہوریہ کے موقعے پر ثقافتی شو میں ٹیپو سلطان کو بڑے واضح انداز میں پیش کیا۔
اس پر ٹوئٹر پر موجود بہت سے لوگوں نے کانگریس پر الزام لگایا کہ یہ جھلک آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کانگریس نے دانستہ طور پر پیش کی گئی ہے۔
جہاں کچھ ٹویٹس بہت لوگوں کے لیے گستاخی کے مترادف تھیں، وہیں بعض لوگوں نے ٹیپو سلطان کی بہادری اور برطانیہ سے ان کی جنگ کی یاد دہانی بھی کرائي۔
بعض لوگوں نے کہا کہ زیادہ تر ٹویٹس غلط معلومات کا نتیجہ ہیں جس سے بعض لوگوں کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔
ٹوئٹر کے ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’فرقہ پرست ٹیپو کو روادار اور سیکولر رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک شخص نے لکھا: ’یارو کم سے کم یومِ جمہوریہ پر تو ایسا نہ کرو۔‘
معروف تاريخ داں عرفان حبیب نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’ٹیپو کی غلط شبیہ پیش کرنا بھی صنعت بن چکا ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں قسم کے شدت پسند ان کی وراثت کے ساتھ نا انصافی کر رہے ہیں۔ بیج تو انگریزوں نے ہی بویا تھا۔‘
معلومات کے بعض متلاشیوں نے جگہ جگہ سے ٹیپو سلطان کے متعلق معلومات فراہم کرنا اور لنک ڈالنا شروع کر دیا۔
ثقافتی جھلکیوں میں ٹیپو کے تلوار والے مجسمے کے پیچھے وہ پینٹنگ پیش کی گئی تھی جس میں ایک شیر کو ایک برطانوی سپاہی کو مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹیپو سلطان کو ’شیرِ میسور‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔
تاریخ داں عطیہ زیدی نے اپنی ٹويٹ میں کہا: ’ایک اچھے حکمراں پر تہمت لگانے سے باز رہیں۔‘
اخبار کے مطابق ریاستی کمیٹی نے چار تجاویز میں سے ٹیپو سلطان والی تھیم کو منتخب کیا تھا۔ دوسری تھیم میں ’کوڈاگو: جنگجوؤں کی سرزمین،‘ ’اٹھارہویں صدی میں میسور کے دشہرے (مذہبی تہوار) کی شان و شوکت،‘ اور ’کڈمبا بساڈی‘ یعنی ہزار ستون کا مندر شامل تھا۔







