ٹوئٹر سعودی عرب میں مقبول کیوں؟

ایک حالیہ کیس میں آن لائن حقوق کے ایک کارکن کو سات سال قید اور 600 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہg

،تصویر کا کیپشنایک حالیہ کیس میں آن لائن حقوق کے ایک کارکن کو سات سال قید اور 600 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی

سعودی عرب میں بیک وقت سینکڑوں افراد ٹوئٹر ہیش ٹیگ ’ٹوئٹر کیوں سعودی عرب میں کامیاب ہے‘ (#ماذا_نجح_التويتر_في_السعوديۃ) کے ساتھ ٹویٹس کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کیسے ٹوئٹر کی وجہ سے انھیں جکڑبندیوں والے ملک میں اظہار کی آزادی دی ہے۔

اس ٹرینڈ کا آغاز منگل کو ہوا جب دس ہزار ٹویٹس اس ٹوئٹر ہیش ٹیگ کو استعمال کر کے نشر کی گئیں۔

یہ اس پسِ منظر میں اہم سوال بنتا ہے کہ سعودی عوام دنیا میں سب سے زیادہ ٹوئٹر استعمال کرنے والی اقوام میں سے ایک ہیں۔

اس کے جواب میں سعودی عوام کی جانب سے ٹوئٹر پر مختلف نوعیت کی آرا سامنے آ رہی ہیں، اور اکثر کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق انٹرنیٹ تک رسائی اور موبائل فون کی سہولت جیسی کسی تکنیکی چیز سے نہیں ہے۔

ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کیونکہ ہم اس پر وہ سب کچھ کہہ سکتے ہیں جو حقیقی زندگی میں نہیں کہا جا سکتا ہے، یہ پابندیوں کے ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔‘

ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’کیونکہ یہ واحد جمہوریت ہے اور اس پر غریب اور امیر، شہزادوں اور عام شہریوں سمیت سب نے بات شروع کر دی ہے۔‘

ان ٹویٹس میں شاید سب سے زیادہ جو بات کی گئی ہے وہ ایک تصویر کے ساتھ ہے جس میں ایک آدمی کو دکھایا گیا ہے جس کے منہ اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہے جس کے ساتھ الفاظ لکھے ہیں: ’کیونکہ اس سے پہلے حالات ایسے تھے۔‘

سعودی صارفین ہر ماہ 15 کروڑ کے قریب ٹویٹس بھیجتے ہیں
،تصویر کا کیپشنسعودی صارفین ہر ماہ 15 کروڑ کے قریب ٹویٹس بھیجتے ہیں

مغربی ممالک کے صارفین کے لیے یہ بہت حیران کن بات ہو گی کہ سعودی سوشل میڈیا پر آزادی کو اس طرح سراہ رہے ہیں۔ حالنکہ اس سے پہلے کئی لوگوں کو ’توہین آمیز‘ یا ’نامناسب‘ ٹویٹس کی وجہ سے سزا سنائی جا چکی ہے۔

سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر بہت سے سوالات نہیں کیے جا سکتے، جن میں شاہی خاندان یا اسلام پر سوالات شامل ہیں، اور ان کے مرتکب کی سزا بہت سخت ہے۔

ایک حالیہ کیس میں آن لائن حقوق کے ایک کارکن کو سات سال قید اور 600 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

شاید اسی وجہ سے بہت سے سعودی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ خفیہ رکھتے ہیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ کی سمیعہ بخش کا کہنا ہے کہ ’یہ مکمل آزادی نہیں ہے مگر یہ اس آزادی سے زیادہ ہے جو انھیں روایتی طور پر حاصل تھی۔‘

گذشتہ سال حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تمام ٹوئٹر صارفین اپنے ٹوئٹر کے اکاؤنٹ اور آئی ڈی کا اندراج کروائیں۔ مگر ایسا نہیں ہو سکا اور ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد اور اس کا استعمال بڑھتا رہا۔

سعودی عرب میں قائم ایک کنسلٹنسی سوشل کلینک کے مطابق سعودی عرب کی انٹرنیٹ پر کل آبادی کا ایک تہائی باقاعدگی سے ٹوئٹر استعمال کرتا ہے جو 15 کروڑ ٹویٹس فی مہینہ کرتے ہیں۔