کرناٹک میں ٹیپو سلطان کا جشن ولادت پر تنازع، ایک ہلاک

ٹیپو سلطان 18 ویں صدی کے بادشاہ ہیں جن کی حکومت میسور کے علاقے میں تھی

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشنٹیپو سلطان 18 ویں صدی کے بادشاہ ہیں جن کی حکومت میسور کے علاقے میں تھی

بادشاہ ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش کا جشن بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں تنازعے کا شکار ہو گیا ہے۔

منگل کو ریاستی حکومت کی جانب سے 18ویں صدی کے بادشاہ ٹیپو سلطان کے نام پر ’یوم ٹیپو سلطان‘ منانے کے خلاف مظاہرے میں وشو ہندو پریشد کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا۔

کرناٹک حکومت دس نومبر کو میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش منا رہی ہے، لیکن بہت سی جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

کرناٹک میں كوڈاگو ضلعے کی ایس پی ورتكا کٹیار نے بی بی سی کو بتایا کہ وی ایچ پی کے كوڈاگو یونٹ کے جنرل سکریٹری ڈی ایس كوٹپّا ماڈیكري ہسپتال کے احاطے میں بھاگتے ہو‏ئے تقریباً 15 فٹ کی اونچائی سے ایک گڑھے میں کود گئے۔

کٹیار نے کہا: ’میں یہ واضح کر دوں کہ وہ نہ تو پولیس کی لاٹھی چارج یا آنسو گیس کے گولے سے مرے اور نہ ہی انھیں ہجوم نے مارا۔ وہ ہسپتال کے احاطے میں بھاگے اور قریب 15 فٹ کی اونچائی سے ایک گڑھے میں کود گئے جس سے ان کی موت ہو گئی۔‘

سخت گیر ہندو تنظیم وی ایچ پی، بجرنگ دل، ہندو جاگرن ویدك اور بی جے پی سے منسلک دیگر تنظیم ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش منانے کے کانگریس حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ٹیپو سلطان کو ہندوستان بہادر حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور انھیں شیر میسور کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشنٹیپو سلطان کو ہندوستان بہادر حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور انھیں شیر میسور کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے

ان کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان ’ہندو مخالف جابر بادشاہ‘ تھے جبکہ حکومت کا یہ موقف ہے کہ وہ ایک ’سیکیولر اور روشن خیال حکمراں‘ تھے۔

اسی حوالے سے کورگ کے علاقے میں کئی ہندو تنظیموں نے یوم ٹیپو سلطان کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منانے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ حکومت کے فیصلے کے تحت جشن ولادت کی تقریب کے موقعے پر وہاں جلوس نکالا گیا ہے۔

ٹیپو سلطان ان چند حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے برطانوی حکومت کے خلاف کئی جنگیں لڑی تھیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج اس وقت پرتشدد ہو گیا جب ہجوم نے سنگ باری شروع کر دی۔ اطلاعات کے مطابق اس میں تقریباً 50 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

آئی جی پی رینج بی کے سنگھ نے کہا: ’کشیدگی اس وقت شروع ہو‏ئی جب تقریباً تین ہزار مظاہرین جلوس نکالنا چاہتے تھے، جبکہ پولیس سے انھوں نے اس کی اجازت نہیں لی تھی۔ جب ہم نے ان کا جلوس رکوا دیا تو انھوں نے سنگ باری شروع کر دی۔‘

مظاہرے کے بعد علاقے میں صورت حال کشیدہ ہے۔