جنوبی ہند کے معروف بادشاہ ٹیپو سلطان کی بعض نوادرات کی اپریل میں لندن میں نیلامی ہو رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشن18ویں صدی میں جنوبی ہند کے فرمانروا ٹیپو سلطان کی چند نایاب اور نادر چیزیں اسلامی اور ہندوستانی فن کے نمونے کے تحت لندن کے بون ہام نیلام گھر میں نیلام ہو رہی ہیں جن میں ان کی یہ ترکش اور زرہ بکتر بھی شامل ہے۔
،تصویر کا کیپشنٹیپو سلطان اپنی زندگی ہی میں کسی لیجنڈ سے کم نہیں تھے۔ 18ویں صدی کے اواخر میں انھوں نے سخت اور موثر ڈھنگ سے جنوبی ہند میں انگریزوں کی مخالفت کی تھی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو ان سے سخت خطرات لاحق تھے۔ انگریزوں کو ٹیپوسلطان کی ریاست میسور کو زیر نگیں لانے میں تقریباً 40 سال لگ گئے۔
،تصویر کا کیپشنٹیپو سلطان کو ’شیر میسور‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فن کی قدردانی اور جوہر شمشیر زنی ان کا خاصہ کہی جاتی ہیں۔ یہاں ان کی تلوار پر نگینے جڑے ہیں جس کے دستے پر شیر کا سر واضح ہے۔
،تصویر کا کیپشنمیسور ریاست کا دارالحکومت شری رنگاپٹنم جزائر پر مبنی تھا جہاں ٹیپو سلطان کا قلعہ تھا۔ میسور ریاست انتہائي منظم تھی جہاں بہتر تجارتی راستے تھے اور ان کی فوج یورپی طرز پر قائم تھی۔
،تصویر کا کیپشنٹیپو سلطان ٹیکنالوجی کے استعمال میں جدت پسند واقع ہوئے تھے۔ وہ اور ان کے والد حیدر علی نے جنگوں میں ٹھوس ایندھن والے آتش گیر مادوں کا استعمال کیا۔ان کے راکٹ کے حملے قابل دید اور کامیاب تھے۔ اس نادر سونے اور سٹیل کے غلاف نما سرپوش کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کی قیمت کوئی 25 ہزار پاؤنڈ ہوگی۔
،تصویر کا کیپشنبعض لوگوں کا خیال ہے کہ ٹیپو سلطان سخت گیر مسلم بادشاہ تھا جس نے ہندوؤں کے گاؤں، مندر اور عیسائیوں کے گرجا گھر تباہ کیے لیکن بہت سے لوگ اسے ٹیپو پر بےوجہ تنقید کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبون ہام میں ہندوستانی اور اسلامی شعبے کے سربراہ کلیئر پنہالورک کہتے ہیں: ’ٹیپو سلطان کے ہتھیار اور زرہ بکتر حیرت انگیز ہیں اور یہ بلاشبہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ بھارت اور برطانیہ دونوں کی ان میں زبردست دلچسپی ہے کیونکہ کہ یہ ان کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں۔‘ یہ نیلامی لندن کے بون ہام میں 21 اپریل سنہ 2015 کو ہو گی۔